مضمون کے اہم نکات
مباحات مفسدات اور ممنوعات روزہ :۔
مباحات روزہ :۔
یعنی وہ امور جو روزے کی حالت میں سرانجام دینے جائز ہیں اور ان کے کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا :
➊ مسواک کرنا :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل وضوء
بخاری کتاب الصوم باب سواک الرطب والیابس للصائم
”اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو میں انہیں ہر وضوء کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“
امام بخاری رحمہ اللہ اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں : اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں سے روزہ دار کی کوئی تخصیص نہیں کی ہے۔
➋ غسل کرنا :۔
عن عائشة كان النبى صلى الله عليه وسلم يدركه الفجر فى رمضان من غير حلم فيغتسل ويصوم
بخاری کتاب الصوم باب اغتسال الصائم رقم (1930) ، مسلم کتاب الصیام باب صحة صوم من طلع عليه الفجر وهو جنب (1109)
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں فجر کو اس حال میں پاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جماع کے سبب جنبی ہوتے پس پھر غسل کرتے اور روزے رکھتے تھے۔“
➌ بیوی کا بوسہ لینا اگر اپنے اوپر قابو رکھ سکے :۔
عن عائشة قالت كان النبى صلى الله عليه وسلم يقبل ويباشر وهو صائم وكان أملككم لإربه
بخاری کتاب الصوم باب المباشرة للصائم رقم (1937)
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے اور مباشرت کرتے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔“
عن عائشة رضي الله عنها قالت إن كان رسول الله ليقبل بعض أزواجه وهو صائم
بخاری کتاب الصوم باب القبلة للصائم رقم (1928) ، مسلم کتاب الصیام باب بيان أن القبلة في الصوم ليست محرمة (1106)
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج کا روزہ دار ہونے کے باوجود بوسہ لے لیا کرتے تھے۔“
➍ بھول کر کھا پی لینا :۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال إذا نسي فأكل وشرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه
بخاری کتاب الصوم باب إذا أکل أو شرب ناسيا رقم (1933) ، مسلم کتاب الصیام باب أكل الناسي وشربه (1155)
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی بھول کر کچھ کھا پی لے تو اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے۔“
➎ سحری کھا کر غسل جنابت کرنا :۔
أن عائشة و أم سلمة رضي الله عنهما أخبرتاه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدركه الفجر وهو جنب من أهله ثم يغتسل ويصوم
بخاری کتاب الصوم باب الصائم يصبح جنباً رقم (1945/ 1946) مسلم کتاب الصیام باب صحة صوم من طلع عليه الفجر وهو جنب (1109)
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کو پاتے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کے ساتھ جنبی ہوتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔“
➏ سینگی لگوانا یعنی بطور علاج جسم سے خون نکلوانا :۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبى صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم واحتجم وهو صائم
بخاری کتاب الصوم باب الحجامة والقیء للصائم رقم (1938)
”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام اور روزے کی حالت میں سینگی لگوائی۔“
➐ قے آجانا :۔
عن عمر بن الحكم بن ثوبان سمع أبا هريرة رضى الله عنه إذا قاء لا يفطر إنما يخرج ولا يولج
بخاری کتاب الصوم باب الحجامة والقیء للصائم ص 383 طبع دار السلام
”عمر بن حکم بن ثوبان رحمہ اللہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب کوئی قے کرے تو روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ اس سے تو چیز باہر آتی ہے اندر نہیں جاتی۔“
➑ کنگھی کرنا اور تیل لگانا :۔
➒ سرمہ لگانا :۔
الم يرانس والحسن وإبراهيم بالكحل للصائم بأسا
(بخاری کتاب الصوم باب اغتسال الصائم ص 380)
”سیدنا انس رضی اللہ عنہ حسن اور ابراہیم نے کہا روزہ دار کے لیے سرمہ لگانا درست ہے۔“
➓ بھیگا ہوا کپڑا سر پر ڈالنا :۔
وبل ابن عمر على ثوبا فالقاه عليه وهو صائم
(بخاری کتاب الصوم باب اغتسال الصائم ص 380)
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک کپڑا تر کر کے اپنے جسم پر ڈالا حالانکہ وہ روزے سے تھے۔“
⓫ ہنڈیا سے نمک وغیرہ چکھنا :۔
قال ابن عباس لا بأس أن يتطعم القدر أو الشيء
(بخاری کتاب الصوم باب اغتسال الصائم ص 380)
”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہانڈی یا کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“
⓬ حلق میں مکھی وغیرہ کا داخل ہو جانا :۔
قال الحسن إن دخل حلقه الذباب فلا شيء عليه
(بخاری کتاب الصوم باب الصائم إذا أکل أو شرب ناسيا ص 381)
”حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے حلق میں مکھی داخل ہو جائے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔“
ممنوعات روزہ :۔
➊ جھوٹ اور برے اعمال :۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة فى أن يدع طعامه وشرابه
بخاری کتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور والعمل به (1903)
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص روزہ کی حالت میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہیں کرتا تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔“
➋ مبالغے سے ناک میں پانی چڑھانا :۔
عن لقيط بن صبرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بالغ فى الاستنشاق إلا أن تكون صائما
ابو داؤد کتاب الصیام باب الصائم یصب علیہ الماء من العطش (2366) ترمذی کتاب الصوم، باب ما جاء في کراهية مبالغة الاستنشاق للصائم (788) ، نسائی کتاب الطهارة باب المبالغة في الاستنشاق (87)
”سیدنا لقيط بن صبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ سے کام لیں البتہ روزے کی حالت میں مبالغہ نہ کریں۔“
➌ شہوت انگیز گفتگو کرنا اور شور و غوغا :۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب فإن سابه أحد أو قاتله فليقل إني امرؤ صائم
بخاری کتاب الصوم باب هل يقول إني صائم إذا شتم (1904) ، مسلم کتاب الصیام باب حفظ اللسان للصائم (1151)
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی روزے سے ہو تو فحش گوئی اور شور و غوغا نہ کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ : میں روزے دار آدمی ہوں۔“
➍ بیوی سے بغل گیر ہونا :۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رجلا سأل النبى صلى الله عليه وسلم عن المباشرة للصائم فرخص له وأتاه آخر فسأله فنهاه فإذا الذى رخص له شيخ وإذا الذى نهاه شاب
ابو داؤد کتاب الصیام باب کراهية للشاب (2387)
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے دار کے لیے بغل گیر ہونے کے بارے میں دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی۔ اور ایک دوسرا شخص آیا اس نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت نہ دی جس کو اجازت دی تھی وہ بوڑھا تھا اور جس کو اجازت نہ دی وہ جوان تھا۔“
مفسدات روزہ :۔
وہ امور جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے :
➊ قصداً قے کرنا :۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذرعه القيء وهو صائم فليس عليه قضاء ومن استقاء عمدا فليقض
ابو داؤد کتاب الصیام باب الصائم يستقىء عامداً (2380) ، ترمذی کتاب الصوم باب ما جاء فيمن استقاء عمداً (720) ، ابن ماجہ کتاب الصیام باب ما جاء في الصائم القیء (1676)
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص پر قے غالب آگئی اور اس نے قے کر دی اس حال میں کہ وہ روزے سے تھا تو اس پر قضاء نہیں اور جس نے ارادتاً قے کی وہ روزے کی قضاء دے۔“
➋ جان بوجھ کر کھانا پینا :۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِالبقرہ : 187
”تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔“
➌ جماع کرنا :۔
عن عائشة رضي الله عنها تقول أن رجلا أتى النبى صلى الله عليه وسلم فقال إنه احترق قال ما لك؟ قال أصبت أهلي فى رمضان فأتي النبى صلى الله عليه وسلم بمكتل يدعى العرق فقال أين المحترق؟ قال أنا قال تصدق بهذا
بخاری کتاب الصوم باب إذا جامع في رمضان (7935) ، مسلم کتاب الصیام باب تغلیظ تحریم الجماع في نهار رمضان (1112)
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں دوزخ میں جل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا بات ہے؟ اس نے کہا : رمضان میں میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کھجور کا تھیلا جس کا نام عرق تھا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دوزخ میں جلنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا : حاضر ہوں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو لے لو اور صدقہ کر دو۔“
➍ حیض و نفاس :۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عورتوں کی جماعت صدقہ کرو کیونکہ میں نے جہنم میں تم کو زیادہ دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ایسا کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے کہا کہ ہمارے دین اور عقل میں نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا ایسا نہیں ہے کہ جب اسے حیض آتا ہے تو نہ وہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔ (بخاری کتاب الحیض باب ترک الحائض الصوم 304)
روزے کا کفارہ :۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھے کہ ایک شخص آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو تباہ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہوئی ہے؟ اس نے کہا: میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کر سکو؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر گئے، ہم بھی اپنی اسی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بڑا تھیلا پیش کیا گیا، جس کا نام عرق تھا، اس میں کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا: حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے لو اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کر دوں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت دیکھے جا سکے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا جاؤ اسے اپنے گھر والوں کو ہی کھلاؤ۔ (بخاری کتاب الصوم باب إذا جامع في رمضان ولم يكن له شيء 1936)
روزے کی رخصت :۔
یعنی ایسے امور جن کے پیش آجانے سے روزے ترک کر سکتے ہیں :
➊ بیماری اور سفر :۔
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَالبقرہ : 184
”پس تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی کو پورا کرے۔“
➋ حمل و رضاعت :۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جو بنی عبد اللہ بن کعب کے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے ہم پر حملہ کر دیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو پہر کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ مجھے فرمایا: قریب آؤ اور کھانا کھاؤ میں نے کہا میں روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قریب آؤ میں تجھے روزے کے بارے بتاتا ہوں بے شک اللہ نے مسافر سے آدھی نماز معاف کی ہے اور حاملہ اور دودھ پلانے والی سے روزہ۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کا ذکر کیا یا دونوں میں سے ایک کا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے سے کیوں نہیں کھایا ! (ترمذی کتاب الصوم باب ما جاء في الرخصة في الإفطار للحبلى والمرضع رقم 715)
➌ شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا آدمی جو ضعف کی بنا پر روزہ نہ رکھ سکے :۔
وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَالبقرہ : 184
اور جو بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں وہ فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے جو خوشی سے ایک مسکین کی جگہ دو یا تین مسکینوں کو کھانا کھلا دے وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم جانو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اس آیت سے شیخ فانی اور مریض جو شفاء یاب ہونے کی امید چھوڑ بیٹھتا ہے رخصت مراد ہے۔ (دار قطنی 2/ 405 ، منتقى لابن جارود 281 ، شرح السنة باب الرخصة في الإفطار للحامل والمرضع 2/ 316 317)