مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ماہ شعبان کے درمیان روزے: سنت یا بدعت؟ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 516

سوال

ماہ شعبان کے درمیان میں جو روزے رکھے جاتے ہیں اور جن پر کچھ اہل حدیث بھائی بھی عمل کرتے ہیں، کیا یہ احادیث سے ثابت ہیں یا نہیں؟ ان کا حکم کیا ہے؟ یہ سنت ہیں یا بدعت؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح احادیث سے جو بات معلوم ہوتی ہے (جتنا مجھے علم ہے) وہ یہ ہے کہ:

◄ رسول اکرم ﷺ ماہ شعبان میں دوسرے مہینوں کی نسبت زیادہ روزے رکھا کرتے تھے۔
◄ لیکن خاص طور پر ماہ شعبان کے درمیانی حصے (پندرہویں تاریخ یا بیچ کے ایام) کے متعلق مجھے اب تک کوئی صحیح حدیث معلوم نہیں ہو سکی۔

لہٰذا:

◄ جو شخص اس مہینے میں روزے رکھے گا، لیکن اس بات کو شروع، بیچ یا آخر کے ساتھ خاص نہیں کرے گا تو وہ سنت کا متبع ہے اور اس کو اس کا اجر و ثواب بھی ملے گا۔
◄ ماہ شعبان میں زیادہ روزے رکھنے کے بارے میں صحاح ستہ میں احادیث موجود ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔