ماہ رمضان المبارک اور اعتکاف کے مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

ماہ رمضان المبارک اور اعتکاف کے مسائل :۔

لغوی اعتبار سے اعتکاف کا معنی کسی چیز پر جم کر بیٹھ جانا اور نفس کو اس کے ساتھ لگائے رکھنا ہے اور شرعی اعتبار سے تمام دنیاوی معاملات ترک کر کے عبادت کی نیت سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی خاطر مسجد میں ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے۔ اعتکاف بیٹھنے والے کو معتکف اور جائے اعتکاف کو معتکف کہا جاتا ہے۔ اعتکاف سال میں کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شوال کے مہینے کا اعتکاف بھی ثابت ہے لیکن افضل آخری عشرے کا اعتکاف ہے۔ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی سے جاملے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
إن النبى كان يعتكف العشر الأواخرمن رمضان حتى توفاه الله تعالى ثم اعتكف أزواجه من بعده
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت کر دیا پھر آپ کے بعد آپ کی بیویاں اعتکاف کرتی تھیں۔“
بخاري كتاب الاعتكاف باب الاعتكاف في العشر الاواخر (2026) ، مسلم کتاب الاعتكاف باب اعتكاف العشر الأواخر من رمضان (1172)
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله يعتكف فى العشر الأوسط من رمضان فاعتكف حتى إذا كان ليلة احدى وعشرين وهى الليلة التى يخرج من صبيحتها من اعتكافه قال من كان اعتكف معي فليعتكف العشر الأواخر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ایک سال آپ نے حسب معمول اعتکاف کیا، جب اکیسویں رات ہوئی یہ وہ رات تھی جس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اعتکاف سے نکلے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف بیٹھے۔“
بخاری ابواب الاعتكاف : باب الاعتكاف في العشر الأواخر (2027) ، مسلم کتاب الصيام فضل ليلة القدر (1127)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
كان النبى إذا أراد أن يعتكف صلى الفجرثم دخل المكان الذى يريد أن يعتكف فيه
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر کی نماز پڑھ کر اپنی جائے اعتکاف میں داخل ہو جاتے۔“
ابن ماجه كتاب الصيام باب ما جاء فيمن يبتدى الاعتكاف وقضاء الاعتکاف (1771) ، نسائی (10) ، احمد (24598)
اعتکاف کے طریقے کے متعلق اہل علم کے دو اقوال ہیں :
➊ ایک قول یہ ہے کہ اعتکاف مسنون آخری عشرے کا ہے اور آخری عشرے کا آغاز بیس رمضان کا سورج غروب ہوتے ہی ہو جاتا ہے لہذا معتکف کو چاہیے کہ وہ اکیسویں رات شروع ہوتے ہی مسجد میں آجائے رات بھر تلاوت قرآن ذکر الہی تسبیح وتہلیل اور قیام میں مصروف رہے اور نماز فجر ادا کر کے اپنے اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جائے۔
➋ دوسرا موقف یہ ہے کہ ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرے کا اعتکاف کیا اور دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ میں داخل ہوتے تھے لیکن اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ وہ اکیس کی یا بیس کی صبح ہے۔ بہتر یہ ہے کہ معتکف بیس رمضان کی فجر پڑھ کر اعتکاف کا آغاز کرے تا کہ آخری عشرے کی اکیسویں کی طاق رات جائے اعتکاف میں گزارے، کیونکہ اعتکاف لیلۃ القدر کی تلاش کا ایک ذریعہ ہے جیسا کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہوتا ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا۔
کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اعتکاف کر کے اپنا بوریا بستر باندھ کر گھروں کو چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف کرے۔ یہ بیس رمضان کو فرمایا تھا۔ غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ آخر آپ انہیں رات کو بھی بلا سکتے تھے اور کہہ دیتے کہ تم نے اعتکاف کے مقام پر داخل ہونا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بیس کی صبح کو مسجد میں آجائے تو ذہنی طور پر لیلتہ القدر کی تلاش کے لیے تیار ہو جائے گا اور جائے اعتکاف سے مانوس بھی ہو جائے گا۔ اس طرح اس کی اکیسویں رات معتکف میں گزرے گی۔ جب کہ دوسرے موقف کے لحاظ سے ان کی اکیسویں رات جائے اعتکاف سے باہر گزرے گی جو ایک نقص بھی ہے۔ لہذا زیادہ مناسب اور موزوں یہ ہے کہ بیسویں کی صبح کو مسجد میں آئے اور نماز ادا کرنے کے بعد اپنے معتکف میں تیار ہو کر بیٹھے۔ اس صورت میں دونوں احادیث پر عمل ہو جائے گا۔ صرف آخری عشرے سے بارہ گھنٹوں کا اضافہ ہوگا اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ والله اعلم
دوسرا موقف مبنی بر احتیاط ہے وگرنہ اعتکاف تو ایک دن یا رات کا بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
إن عمر سال النبى صلى الله عليه وسلم قال كنت نذرت فى الجاهلية أن اعتكف ليلة فى المسجد الحرام قال اوف بندرك
”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کی نذر مانی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو۔ “
بخاری کتاب الاعتكاف : باب الاعتكاف ليلا (2032) ، مسلم كتاب الايمان باب نذر الكافر (1656)
معلوم ہوا کہ اعتکاف ایک عشرے سے کم کا بھی ہو سکتا ہے۔

اعتکاف کے لیے نیت :۔

چونکہ اعتکاف عبادت ہے اس لیے اس کے لیے بھی نیت ضروری ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر عبادت کے لیے نیت کو لازمی قرار دیا ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنما الأعمال بالنيات
تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔
بخاری، کتاب بدء الوحي باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله (1) ، مسلم كتاب الامارة باب قوله انما الاعمال بالنية (1997)
لیکن یہ یاد رہے کہ اس کے لیے زبان سے کوئی تلفظ ثابت نہیں۔ یہ دل کا فعل ہے۔ بعض لوگوں نے مسجد میں داخل ہو کر اعتکاف کے لیے : نويت سنة الاعتكاف (میں نے اعتکاف کی نیت کی) کے الفاظ مختص کر رکھے ہیں یہ غلط ہیں اور کسی حدیث سے ثابت نہیں ہیں، اس لیے ان سے بچنا چاہیے۔

جائے اعتکاف میں کس وقت داخل ہونا چاہیے؟

اعتکاف کے متعلق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے۔
بخاري كتاب الاعتكاف باب الاعتكاف في العشر الاواخر (2026)
دوسری حدیث ہے : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف بیٹھنے کا ارادہ کرتے تو فجر کی نماز پڑھ کر جائے اعتکاف میں داخل ہو جاتے۔
بخاری کتاب الاعتكاف : باب الاعتكاف في العشر الأواخر (2027) ، مسلم کتاب الصيام باب فضل ليلة القدر (1167)
ان احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے عام اہل علم یہ بات لکھتے ہیں کہ آخری عشرہ کا آغاز بیس رمضان کا سورج غروب ہوتے ہی ہو جاتا ہے۔ لہذا معتکف کو چاہیے کہ اکیسویں رات شروع ہوتے ہی مسجد میں آجائے۔ رات بھر تلاوت قرآن، ذکر، تسبیح و تہلیل اور نوافل میں مصروف رہے اور صبح نماز فجر ادا کر کے اپنے اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جائے۔
جبکہ دوسرا موقف جو ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کا آغاز نماز صبح کے بعد کرتے اکیس یا بیس کی صبح کو اس کا تعین واضح نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ معتکف بیس رمضان کی فجر کی نماز پڑھ کر اعتکاف کا آغاز کرے تا کہ اکیس کی رات معتکف (اعتکاف کی جگہ) میں آئے کیونکہ اعتکاف لیلۃ القدر کی تلاش کا ایک ذریعہ ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر میں دو عشرے اعتکاف کیا نہ ملی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے اور آخری عشرے کا اعتکاف کیا، تسلسل بھی جاری رکھا حتی کہ جو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے اعتکاف ختم کر کے گھروں کو چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا : جو میرے ساتھ اعتکاف کر رہا ہے وہ اپنے اعتکاف کو جاری رکھے۔ بیسویں رمضان تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر سے آخری عشرے کا آغاز کر دیا۔
ذرا غور فرمائیں ! اگر آخری عشرے کا اعتکاف اکیسویں رات بعد از غروب آفتاب شروع ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیسویں کے دن کا اعتکاف صحابہ رضی اللہ عنہم سے کیوں کروایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اکیسویں رات ہی کو بلا لیتے اور کہہ دیتے کہ تم نے معتکف تو توڑ پھوڑ دیا ہے اب رات مسجد میں گزارو اور کل صبح یعنی اکیسویں کی صبح کی نماز کے بعد دوبارہ داخل ہو جاؤ۔
مولانا عبد السلام بستوی رحمہ اللہ کے ”اسلامی خطبات“ ان حضرات کا یہ کہنا ہے کہ اگر بیس کی صبح کو مسجد میں آجائے تو ذہنی طور پر لیلۃ القدر کی تلاش کے لیے اکیسویں کو پورا تیار ہو جاتا ہے جبکہ دوسرے موقف کے لحاظ سے اکیسویں رات جائے اعتکاف سے باہر گزار دی اور اعتکاف کے ارادے سے اکیس کی صبح کو معتکف میں داخل ہوا تو آخری عشرے سے ایک رات خارج ہو جائے گی جو ایک نقص بھی ہے لہذا زیادہ مناسب اور موزوں یہ ہے کہ بیسویں کی صبح کو مسجد میں آجائے اور نماز کی ادائیگی کے بعد اپنے معتکف میں تیار ہو کر بیٹھ جائے۔ اس صورت میں دونوں احادیث پر بہتر عمل ہو جائے گا صرف آخری عشرہ سے 12 گھنٹوں کا اضافہ ہوگا اور اس اضافے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ بھی اسی موقف کے قائل تھے اور یہ موقف مبنی بر احتیاط ہے۔ والله اعلم

معتکف کے لیے جائز امور :۔

معتکف کے لیے حالت اعتکاف میں نہانا، سر میں کنگھی کرنا، تیل لگانا اور ضروری حاجات مثلا پیشاب پاخانہ فرض غسل وغیرہ کے لیے جانا درست ہے اور اعتکاف بیٹھنے والے کو بلا عذر اپنے معتکف سے باہر نہیں جانا چاہیے۔
بخاری (1/ 272)

دوران اعتکاف ممنوع افعال :۔

➊ جماع و ہم بستری کرنا۔
➋ بیمار پرسی کے لیے باہر نکلنا۔
➌ کسی کے جنازے میں شریک ہونا۔
➍ کسی ضروری حاجت کے بغیر باہر نکلنا۔
سورہ البقرہ : (187) ، ابن ابی شیبة (293) ، عبد الرزاق (4/ 363) ، ابوداؤد كتاب الصيام باب المعتكف يعود المريض (2473) ، بیهقی (4/ 317)

خواتین کا اعتکاف :۔

خواتین کو بھی چاہیے کہ وہ مسجد ہی میں آکر اعتکاف بیٹھیں ان کے لیے گھر میں اعتکاف بیٹھنے کی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے :
وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ(البقرہ : 187)
”اور تم ان عورتوں سے جماع نہ کرو اس حال میں کہ تم مسجدوں میں اعتکاف کرنے والے ہو۔“
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ اعتکاف مسجد میں کیا جاتا ہے۔ ازواج مطہرات بھی مسجد ہی میں اعتکاف کیا کرتی تھیں جیسا کہ اس کے متعلق حدیث پیچھے بیان کر دی گئی ہے۔

دوران اعتکاف چند جائز کام :۔

➊ اگر گھر مسجد کے ساتھ ہی ہو تو کسی ضروری حاجت کے لیے انسان مسجد سے نکل سکتا ہے۔
بخاری کتاب الاعتكاف : باب هل يخرج المعتكف بحوائجه الى باب المسجد (2035) ، مسلم (1175)
➋ مسجد میں خیمہ لگایا جا سکتا ہے۔
بخاری کتاب الاعتكاف : باب الاخبية في المسجد (2034) مسلم (1173)
➌ اعتکاف کرنے والے کی بیوی اس سے ملاقات کے لیے مسجد میں آسکتی ہے اور وہ بیوی کو محرم ساتھ نہ ہونے کی صورت میں گھر چھوڑنے تک ساتھ جاسکتا ہے۔
بخاری کتاب الاعتكاف باب هل يخرج المعتكف لحوائجه الى باب المسجد (2035)
➍ استحاضہ کی بیماری میں مبتلا عورت اعتکاف کر سکتی ہے۔
بخاری کتاب الاعتكاف باب اعتكاف المستحاضة (2037)
➎ اعتکاف کرنے والا اپنا سر مسجد سے باہر نکال سکتا ہے اور اس کی بیوی حالت حیض میں بھی ہو تو اسے کنگھی کر سکتی ہے اور اس کا سر دھو سکتی ہے۔
بخاری، کتاب الاعتكاف : باب الحائض ترجل راس المعتكف (2028، 2029) مسلم (1173)

اعتکاف کا اختتام :۔

آخری عشرہ چونکہ شوال کا چاند دیکھنے کے ساتھ یا رمضان کے تیس دن پورے ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے لہذا اس کے ساتھ ہی اعتکاف بھی ختم ہو جاتا ہے۔ معتکف آخری عشرہ پورا ہوتے ہی اعتکاف ختم کر دے۔ ہمارے ہاں جو معاشرے میں یہ بات رائج ہے کہ اعتکاف سے اٹھنے والے کے گلے میں ہار ڈالے جاتے ہیں۔ خاص طور پر اٹھانے کے لیے خاندان و برادری کے بڑے لوگ آکر ملاقات کرتے ہیں یہ تمام باتیں اور رسومات بے دلیل ہیں۔