مضمون کے اہم نکات
سوال
کیا کوئی عورت ماہواری کے دنوں میں مسجد میں آکر درس وتدریس کر سکتی ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
عورت کا مسجد میں قیام اور تدریس
➊ ماہواری کے دنوں میں عورت کے لیے مسجد میں ٹھہرنا اور درس و تدریس کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے:
قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهُ بُيُوتِ أَصْحَابِهِ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ». ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَصْنَعِ الْقَوْمُ شَيْئًا رَجَاءَ أَنْ تَنْزِلَ فِيهِمْ رُخْصَةٌ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بَعْدُ فَقَالَ: «وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ» (رواہ ابو داؤد۔ بحواله فقه السنة ج۱ص۵۹)
ترجمہ:
’’صحابہ کرام کے گھروں کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دروازوں کو مسجد سے ہٹا لو۔ مگر صحابہ نے یہ حکم فوراً نہ مانا کیونکہ وہ رخصت کے نازل ہونے کی امید رکھتے تھے۔ پھر آپ ﷺ دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا: اپنے گھروں کے دروازے مسجد سے پھیر لو، میں مسجد کو حائضہ عورت اور جنبی مرد کے لیے حلال نہیں کرسکتا۔ یعنی ماہواری والی عورت اور جنبی مرد کا مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں ہے۔‘‘
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت
عن أُمُّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْحَةَ هَذَا الْمَسْجِدِ، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ «إِنَّ الْمَسْجِدَ لَا يَحِلُّ لِجُنُبٍ، وَلَا لِحَائِضٍ»
(رواہ ابن ماجه والطبرانی۔ حواله ایضا)
ترجمہ:
’’رسول اللہ ﷺ مسجد کے صحن میں تشریف لائے اور بلند آواز سے اعلان فرمایا: مسجد میں حائضہ عورت اور جنبی کا قیام حرام ہے۔ ہاں، صرف گزرنے کی اجازت ہے۔‘‘
محقق عصر شیخ محمد سابق مصری کا قول
محقق عصر حاضر الشیخ السید محمد سابق مصری ارشاد فرماتے ہیں:
والحدیثان یدلان علی عدم حل اللبث فی المسجد والمکث فیہ للحائض والجنب لکن یرخص لھما فی امتیازہ یقول اللہ تعالی (ولا جنبا الا عابر ی سیل حتی تغتسلوا)
ترجمہ:
’’یہ دونوں احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ حائضہ عورت اور جنبی کے لیے مسجد میں قیام اور ٹھہرنا جائز نہیں۔ البتہ ان دونوں کو مسجد سے گزرنے کی اجازت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا)‘‘
خلاصہ
✿ ان احادیث سے یہ بات واضح ہے کہ ماہواری کے دنوں میں عورت کا مسجد میں قیام جائز نہیں ہے۔
✿ جمہور علماء کے نزدیک حائضہ عورت اپنے گھروں میں تلاوت بھی نہیں کرسکتی۔
✿ لہٰذا وہ مسجد میں بیٹھ کر درس و تدریس کرنے کی بھی مجاز نہیں ہے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب