مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ماں کی غفلت سے حادثاتی موت اور کفارے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

ایک عورت کے پاس اس کی دو سالہ بچی بیٹھی ہوئی تھی اس کے پاس ہی قہوہ دانی اور چائے دانی پڑی تھی، بچی کھیلنے لگی جبکہ اس کی ماں بچی سے دوسری جانب متوجہ ہو کر کپ دھونے لگی۔ بچی اچانک قہوہ دانی کے پاس پہنچی اور اسے پکڑ لیا وہ اس کے اوپر گر گئی۔ قہوہ انتہائی گرم تھا۔ جب بچی گری تو قہوہ اس کی انتڑیوں کے اندر تک اتر گیا جس کے چوبیس گھنٹے بعد بچی دم توڑ گئی۔ خاتون یہ پوچھنا چاہتی ہے، کیا اس پر کفارہ واجب ہے ؟ اگر ہے تو کتنا ؟

جواب :

سائل اصل حالات و واقعات سے بخوبی آگاہ ہے، اگر ظن غالب کی رو سے بچی کی موت میں اس کی کوتاہی کا عمل دخل ہے تو اس پر کفارہ ادا کرنا واجب ہے، جو کہ گردن آزاد کرنا ہے اور اگر یہ نامکن ہو تو مسلسل دو ماہ روزے رکھنے ہوں گے۔
(دارالافتاءکمیٹی)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔