مال غنیمت کی تقسیم میں مساوات کا اصول

تحریر: عمران ایوب لاہوری

سوار مال غنیمت سے تین حصے اور پیدل ایک حصہ لے گا
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر للفرس سهمين وللراجل سهما
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے روز گھڑ سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ دیا ۔“
سنن أبی داود کی ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
أسهم لرجل ولفرسه ثلاثة أسهم ، سهمين لفرسه وسهما له
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدل مرد مجاہد کے لیے ایک حصہ اور گھڑ سوار کے لیے تین حصے مقرر فرمائے ، دو حصے اس کے گھوڑے کے اور اور ایک حصہ اس کا اپنا ۔“
[بخاري: 2863 ، كتاب الجهاد والسير: باب سهام الفرس ، مسلم: 1762 ، ترمذي: 1554 ، ابو داود: 2733 ، ابن ماجة: 2854 ، دارمي: 225/2 – 226 ، احمد: 2/2 – 62 ، مسند شافعي: 124/2 ، دارقطني: 101/4 ، بيهقى: 325/6]
حضرت عمر بن عبد العزیز ، امام حسن ، امام ابن سیرین ، امام حسین بن ثابت ، امام مالک ، اہل مدینه ، امام ثوری ، اہل عراق ، امام لیث بن سعد ، امام شافعی ، امام اسحاق ، امام احمد ، امام ابو ثور ، امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن رحمہم اللہ اجمعین ، ان سب کا یہی موقف ہے ۔
(ابو حنیفہؒ ) گھڑ سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ ملے گا ۔ ان کی دلیل یہ ہے ۔ حضرت مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے غنائم اہل حدیبیہ پرتقسیم فرمائے اور :
فأعطي الفارس سهمين وأعطى الراجل سهما
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ سوار کو دو حصے دیے اور پیدل کو ایک حصہ دیا ۔“
[ضعيف: ضعيف ابو داود: 587 ، كتاب الجهاد: باب فيمن أسهم له سهما ، ابو داود: 2736 ، شيخ محمد صبحي حسن حلاق نے اس روايت كو ضعيف كها هے ۔ التعليق على الروضة الندية: 735/2 ، امام ابو داودؒ فرماتے هيں كه اس حديث ميں وهم هے كه راوي نے تين سو سواروں كا ذكر كيا هے حالانكه وه دو سو تهے ۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما كي حديث زياده صحيح هے ۔ حافظ ابن حجرؒ فرماتے هيں كه اس حديث ميں (ان كے ليے ) كوئي حجت نهيں هے كيونكه حديث كا معنى يه هے كه گهڑ سوار كو اپنے گهوڑے كي وجه سے دو حصے ملے اور يه حصے اس كے اپنے مختص حصے كے علاوه هيں ۔ فتح الباري: 80/6]
(راجح ) درج بالا وضاحت سے ثابت ہوتا ہے کہ صحیحین میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی صحیح حدیث میں ثابت ہونے والا موقف ہی زیادہ راجح ہے ۔
[مزيد تفصيل كے ليے ديكهيے: تحفة الأحوذي: 151/5 ، المغني: 85/13 ، سبل السلام: 1784/4 ، الروضة الندية: 735/2 ، الفقه الإسلامي وأدلته: 5903/8 ، بدائع الصنائع: 126/7 ، فتح القدير: 323/4 ، تبيين الحقائق: 254/3]
❀ اگر ایک مجاہد گھڑ سوار دو گھوڑوں کے ساتھ آئے تو جمہور اہل علم کے نزدیک اسے ایک گھوڑے کا ہی حصہ دیا جائے گا اور وہ بھی اس وقت جب وہ گھوڑا لڑائی میں اس کے پاس موجود ہو ۔
[سبل السلام: 1784/4]

اس میں طاقت ور اور کمزور ، لڑنے والا اور نہ لڑنے والا سب برابر ہوں گے

➊ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنگ بدر کے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ایسی ایسی کار گزاریاں بتائے گا اسے ایسا ایسا انعام ملے گا ۔ اب نوجوان تو اپنی کار گزاری بتانے میں لگ گئے اور بوڑھوں نے مورچے اور جھنڈے سنبھال لیے اور جب مال غنیمت آیا تو جس کے لیے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ لینے کے لیے آیا ۔ بوڑھوں نے کہا تم کو ہم پر ترجیح نہیں ہو سکتی ، ہم تمہارے پشت پناہ بنے ہوئے تھے ۔ اگر تمہیں ہزیمت و شکست ہوتی تو ہمارے پاس ہی تمہیں پناہ ملتی ، اُدھر نوجوانوں نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مقررفرمایا ہے ۔ تو یہ آیات نازل ہوئیں:
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ ۖ …………..
جب یہ آیات نازل ہوئیں تو :
فقسمها رسول الله بالسواء
”پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب (خواہ کسی نے لڑائی کی ہو یا نہ کی ہو ) کے درمیان مال غنیمت برابر تقسیم فرما دیا ۔
[صحيح: صحيح ابو داود: 2376 ، كتاب الجهاد: باب فى النفل ، ابو داود: 2737 ، نسائي فى السنن الكبرى: 349/6 ، حاكم: 131/2 – 132 ، بيهقى: 291/6]
➋ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی میں حدیث مروی ہے اور اس میں یہ لفظ ہیں:
فقسمها رسول الله على فواق بين المسلمين
”یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کو مسلمانوں کے درمیان برابر برابر تقسیم فرما دیا ۔“
[احمد: 323/5 ، حاكم: 135/2 ، مجمع الزوائد: 95/6]
➌ حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! ایسا آدمی جو اپنی قوم کی حفاظت کرنے والا ہے اس کا حصہ اور اس کے علاوہ کسی اور کا حصہ برابر ہو سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثكلتك أمك ابن أم سعد وهل ترزقون و تنصرون إلا بضعفائكم
”تیری ماں تجھے گم پائے اے اُم سعد کے بیٹے ! تمہیں صرف تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ۔“
[احمد: 173/1]
➍ حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ انہیں باقی ساتھیوں پر تفوق و امتیاز اور فضیلت و برتری حاصل ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم
”کہ صرف تمہارے کمزور افراد کی وجہ سے ہی تمہاری مدد کی جاتی ہے اور تمہیں رزق دیا جاتا ہے ۔“
[بخارى: 2896 ، كتاب الجهاد والسير: باب من استعان بالضعفاء والصالحين فى الحرب ، نسائي: 3178]
➎ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی میں حدیث منقول ہے ۔
[احمد: 198/5 ، ابو داود: 2594 ، ترمذي: 1702 ، نسائي: 45/6 ، ابن حبان: 4767 ، حاكم: 106/2 ، صحيح أبو داود: 2260]
حدیث کا مفہوم یوں بیان کیا گیا ہے کہ کمزور لوگ دعا و التجا میں زیادہ پر خلوص ہوتے ہیں اور عبادت میں زیادہ خشوع و خضوع کرتے ہیں کیونکہ ان کے دل دنیاوی آرائش و زیبائش کے تعلق سے خالی ہوتے ہیں ۔
[نيل الأوطار: 30/5]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے