مال غنیمت میں حکمران کے اختیارات اور نفلی حصے

تحریر: عمران ایوب لاہوری

حکمران کے لیے لشکر کے کچھ حصے کو زائد حصہ عطا کر دینا بھی جائز ہے
➊ حضرت سلمہ بن أکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
أعطاني رسول الله سهم الفارس وسهم الراجل فجعلهما لي جميعا
”رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سوار اور پیدل دونوں کا حصہ عطا کیا اور ان دونوں کو میرے لیے جمع کر دیا ۔“
[مسلم: 1807 ، كتاب الجهاد والسير: باب غزوة ذى قرد وغيرها ، ابو داود: 2752 ، احمد: 52/4]
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ کو بدر کے دن ایک تلوار اضافی حصے کے طور پر عطا کی ۔
[مسلم: 1748 ، احمد: 178/1 ، ابو داود: 2740 ، كتاب الجهاد: باب فى النفل ، ترمذي: 3079 ، نسائي فى السنن الكبرى: 348/6 ، حاكم: 132/2]
❀ لشکر کے ایک دستے کو اضافی حصہ دینا بھی احادیث سے ثابت ہے ۔
➊ حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں پہلی مرتبہ سریہ میں گیا تو آپ نے چوتھا حصہ زائد عطا فرمایا اور دوبارہ گیا تو تیسرا حصہ دیا ۔
[صحيح: صحيح ابو داود: 2389 ، كتاب الجهاد: باب فيمن قال الخمس قبل النفل ، ابو داود: 2750 ، ابن الجارود: 1078 ، ابن حبان: 4835/11 ، حاكم: 133/2]
➋ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ روانہ فرمایا ، اس میں میں بھی موجود تھا ، بہت سے اونٹ مال غنیمت میں حاصل ہوئے ۔ ان میں سے ہر ایک کے حصے میں بارہ بارہ اونٹ مال غنیمت کے طور پر آئے اور پھر انہیں ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا ۔
[بخاري: 3135 ، مسلم: 1749 ، موطا: 450/2 ، احمد: 62/2 – 112 ، ابو داود: 2744]
➌ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض دستوں کو خاص طور پر غنیمت کے حصے کے علاوہ کچھ مزید دیا کرتے تھے ۔ یہ عام فوجی کی تقسیم میں شامل نہیں ہوتا تھا ۔
[بخاري: 3135 ، مسلم: 1750 ، ابو داود: 3746 ، احمد: 140/2]
❀ نفلی طور پر مال دینے سے پہلے خمس نکال لینا ضروری ہے ۔
[نيل الأوطار: 33/5]
➊ حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا نقل إلا بعد الخمس
”اضافی طور پر جو کچھ دیا جائے گا وہ پانچواں حصہ نکال کر دیا جائے گا ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 2392 ، كتاب الجهاد: باب فى النفل من الذهب والفضة ومن أول مغنم ، ابو داود: 2753 ، 2754 ، احمد: 470/3 ، شرح معاني الآثار: 342/2 ، بيهقى: 314/6]
➋ حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ مذکور ہے کہ :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينفل الثلث بعد الخمس
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس نکالنے کے بعد ثلث اضافی طور پر دیا کرتے تھے ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 2387 ، كتاب الجهاد: باب فيمن قال الخمس قبل النفل ، ابو داود: 2748 ، ابن ماجة: 2853 ، احمد: 159/4 ، عبد الرزاق: 9331 ، سعيد بن منصور: 2701 ، ابن حبان: 4835 ، طبراني كبير: 3518 ، حاكم: 133/2 ، بيهقي: 313/6 ، شرح معاني الآثار: 239/3]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے