لشکر کو جو مال بطور غنیمت ملے اس کے چار حصے ان میں تقسیم ہوں گے اور پانچواں حصہ حاکم وقت (مصلحت کے تحت) مختلف مصارف میں خرچ کرے گا
لغوی وضاحت:
غنیمت سے مراد ایسے اموال ہیں جو جنگ میں حاصل ہوں ۔ غنیمت کی جمع غنائم ہے باب عَنِم يغنم (سمع ) غنیمت حاصل کرنا ، باب اَغنمَ يُغْنِمُ (افعال ) غنیمت حاصل کرانا ، باب تغنم اغْتَنَمَ ، اِسْتَغْنَمَ (تفعل ) افتعال ، استفعال ) غنیمت سمجھنا ، المَغْنَم اور الغنم یہ الفاظ غنیمت کے ہم معنی ہیں ۔
[القاموس المحيط: ص / 1031 ، المنجد: ص / 618]
شرعی تعریف:
اہل حرب (دشمن ) سے سختی اور غلبے کے ذریعے چھینے ہوئے اموال ، غنیمت کہلاتے ہیں ۔
[الفقه الإسلامي وأدلته: 5896/8]
مال فئی:
مال فئی سے مراد وہ مال ہے جو بغیر لڑائی کے صلح کے ذریعے یا جزیہ و خراج کی صورت میں حاصل ہو ۔
[تفسير أحسن البيان: ص / 491 ، الفقه الإسلامي وأدلته: 5894/8 ، آثار الحرب: ص / 553]
➊ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف (رخ کر کے ) نماز پڑھائی پھر سلام پھیرنے کے بعد اونٹ کے پہلو سے اُون لی اور فرمایا:
لا يحل لــى مـن غـنــائـمـكـم مثل هذا إلا الخمس والخمس مردود فيكم
”تمہاری غنیمتوں میں سے میرے لیے اس کے برابر بھی جائز نہیں مگر خمس اور خمس بھی تمہاری طرف لوٹا دیا جاتا ہے ۔ “
[صحيح: صحيح ابو داود: 2393 ، كتاب الجهاد: باب فى الإمام يستأثر بشيئ فى الفبي لنفسه ، ابو داود: 2755 ، صحيح نسائي: 3858]
➋ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ اسی معنی میں ایک روایت منقول ہے ۔
[حسن: صحيح ابو داود: 2343 ، احمد: 184/2 ، ابو داود: 2694 ، نسائي: 263/6 – 263 ، مؤطا: 457/2]
➌ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی مثل حدیث مروی ہے ۔
[احمد: 127/4 – 128 ، بزار: 291/2 ، 1734 ، طبراني كبير: 259/18 ، 649 ، مجمع الزوائد: 337/5]
یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ حکمران مال غنیمت سے صرف خمس (پانچویں حصے ) کا حقدار ہے باقی مال مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے گا لیکن وہ خمس بھی اکیلے حکمران کا نہیں ہے بلکہ اسے بھی اپنے بعد اُن مسلمانوں پر لوٹانا واجب ہے جن کی تفصیل قرآن میں مذکور ہے:
وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ [الأنفال: 41]
”جان لو ، جو کچھ بھی تم غنیمت حاصل کرو اس میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور قرابت داروں کا ، اور یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے ۔“
[نيل الأوطار: 17/4]
بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ مال غنیمت چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور چھٹا حصہ کعبہ کا ہو گا لیکن برحق بات وہی ہے جو پیچھے بیان کر دی گئی ہے ) ۔
[الفقه الإسلامي وأدلته: 5900/8]
مال غنیمت کا خمس تقسیم کرنے میں فقہا کا اختلاف ہے ۔
(احناف ) یہ خمس تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا: پہلا یتیموں کے لیے ، دوسرا مساکین کے لیے اور تیسرا مسافروں کے لیے ۔
خمس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر صرف تبرک کے لیے ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ آپ کی وفات پر ساقط ہو گیا اور آپ کے قرابت دار آپ کی زندگی میں نصرت و حمایت کی وجہ سے حصہ دار ہونے کے مستحق تھے ۔ اب محض فقر کی وجہ سے انہیں حصہ ملے گا ۔
(شافعیؒ ، احمدؒ ، جمہور ) مال غنیمت پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ پہلا جہاں مصلحت ہو (یعنی اللہ اور رسول کا حصہ ) ، دوسرا قرابت داروں کا جو کہ بنو ہاشم یا فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہیں اور باقی تین حصے جیسا کہ ابھی پیچھے بیان کیے گئے ہیں ۔
(مالکؒ ) تقسیم کا معاملہ کلی طور پر حاکم کی رائے پر موقوف ہے جیسے وہ مناسب سمجھے ویسے ہی اس کا استعمال کرے ۔
[بداية المجتهد: 277/1 ، مغني المحتاج: 94/3 ، بدائع الصنائع: 125/7]
(راجح ) شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے امام مالکؒ کی رائے کی موافقت کی ہے اور یہی زیادہ درست اور اقرب الی الحق ہے ۔ اور قرآن میں جو مصارف مذکور ہیں وہ بحیثیت تغلیب و تنبیہ ہیں ۔
[تيسير العلى القدير: 294/2 ، تفسير فتح القدير: 310/2]