لے پالک کی نسبت حقیقی والد کے نام سے ہی کی جائے

ماخوذ : قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01، صفحہ 544

سوال

لے پالک کی نسبت آدمی اپنی طرف کر سکتا ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{أُدْعُوْہُمْ لِاٰبَآئِہِمْ} (الأحزاب ۵ پ۲۱)
’’تم ان کو ان کے والدوں کے نام سے بلایا کرو‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا یہ بیان ہے:

{وَمَا جَعَلَ أَدْعِیَآءَکُمْ أَبْنَآءَکُمْ} الآیۃ
’’اور تمہارے لے پالک بیٹوں کو تمہارے بیٹے نہیں بنایا‘‘
[احزاب ۴ پ۲۱]

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️