مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

لے پالک بچے کی ولدیت میں اپنا نام لکھوانے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاوی علمیہ (توضیح الا حکام)

لے پالک کے والد کی جگہ اپنا نام لکھوانے کا حکم

سوال:

ایک شخص کے لے پالک بیٹے کا مسئلہ ہے کہ اس کے حقیقی والد کا کوئی پتہ نہیں، تو کیا وہ شخص ولدیت میں اپنا نام لکھوا سکتا ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  • لے پالک یا منہ بولا بیٹا حقیقی اولاد کی طرح نہیں ہوتا۔
  • اس لیے:
  • اس سے پردہ کیا جائے گا۔
  • وہ وراثت کا بھی حق دار نہیں ہوگا۔

جب وہ اس شخص کا حقیقی بیٹا ہی نہیں ہے تو ولدیت میں اس کے باپ کی جگہ اپنا نام لکھوانا جائز نہیں۔ یہ عمل حقیقت کے خلاف ہوگا۔

تاریخی نظیر:

اسلامی تاریخ میں اس کی ایک مثال موجود ہے:

  • زیاد بن ابیہ، جو ابو سفیان کا ولد الزنا تھا،
  • اسے اسلامی تاریخ میں زیاد بن ابیہ (یعنی "اپنے باپ کا بیٹا”) کہہ کر پکارا جاتا ہے، نہ کہ ابو سفیان کا بیٹا۔

شرعی رہنمائی:

لہٰذا:

  • بہتر یہی ہے کہ لے پالک بچے کی ولدیت میں اس کے حقیقی والد کا نام درج کیا جائے، اگر معلوم ہو۔
  • اگر حقیقی والد کا علم نہ ہو تو "ابیہ” یا اسی طرح کا کوئی لقب استعمال کیا جائے۔
  • اپنا نام لکھوانے سے:
  • ایک طرف نسبت میں غلطی واقع ہوگی۔
  • دوسری طرف وراثت سے متعلق کئی شرعی مسائل جنم لیں گے۔

مزید تفصیل کے لیے فتویٰ نمبر (11136) ملاحظہ کریں۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔