لیلۃ القدر اور اس کی فضیلت قران و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

لیلۃ القدر اور اس کی فضیلت :۔

لیلۃ القدر کا معنی عزت و شرف والی رات ہے۔ چونکہ اس مبارک رات میں قرآن مجید نازل ہوا ہے اس وجہ سے اس رات کو شرافت و بزرگی بڑائی اور ایک خاص مرتبہ حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے پوری ایک سورۃ نازل فرمائی ہے جسے سورۃ القدر کہتے ہیں۔
ارشاد باری تعالی ہے :
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ‎﴿١﴾‏ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ‎﴿٢﴾‏ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ‎﴿٣﴾‏ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ‎﴿٤﴾‏ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ‎﴿٥﴾‏(سورہ القدر: 1 تا 5)
”یقیناً ہم نے اس قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا۔ آپ کیا جانیں کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ اس میں ہر کام کو سر انجام دینے کو اللہ کے حکم سے فرشتے اور روح الامین اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔“
دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے :
حم ‎﴿١﴾‏ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ‎﴿٢﴾‏ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ‎﴿٣﴾‏ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ‎﴿٤﴾‏ أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا ۚ إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ ‎﴿٥﴾(سورہ الدخان : 3 تا 5)
”یقینا ہم نے اس قرآن کو برکت والی رات میں نازل کیا۔ بے شک ہم ڈرانے والے ہیں۔ اس رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ ہماری جانب سے ہے اور ہم بھیجنے والے ہیں۔“
بعض لوگوں نے اس آیت کریمہ کی مراد 15 شعبان کو قرار دیا ہے جسے عرف عام میں شب برأت بھی کہتے ہیں، لیکن یہ تفسیر درست نہیں ہے کیونکہ قرآن کی نص صریح سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ یہ قرآن شب قدر میں نازل ہوا ہے۔ اسے ہی سورۃ دخان میں لیلۃ مبارکہ قرار دیا گیا ہے اور یہ رات رمضان المبارک میں ہی ہے کیونکہ دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالی ہے :
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ(سورہ البقرہ : 185)
”ماہ رمضان وہ ہے کہ جس میں قرآن نازل کیا گیا۔“
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ قرآن کا نزول ماہ رمضان میں ہوا اور دوسری آیات سے معلوم ہوا کہ وہ اس ماہ کی اس رات میں نازل ہوا ہے جسے شب قدر کہتے ہیں۔ یہ رات بڑی بابرکت ہے۔
اس کے چار بڑے بڑے فضائل یہ ہیں :
➊ ایک تو اس میں قرآن جیسی کتاب ہدایت کا نزول ہوا۔
➋ دوسرے اس میں فرشتوں اور روح الامین جبرئیل علیہ السلام کا نزول۔
➌ تیسری بات یہ ہے کہ اس میں سارے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔
➍ چوتھی بات یہ ہے کہ اس کی عبادت ہزار مہینے (83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے بہتر قرار دی گئی ہے۔

شب قدر کا قیام :۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفرله ما تقدم من ذنبه
”جس نے شب قدر کا قیام ایمان و ثواب سمجھ کر کیا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے گئے۔“
بخاري كتاب فضل ليلة القدر باب فضل ليلة القدر (2014) ، مسلم كتاب صلاة المسافرين باب الترغيب فی قیام رمضان (760)

شب قدر کے لیے محنت و کوشش :۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :
كان رسول الله يجتهد فى العشر الأواخر مالا يجتهد فى غيره
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں عبادت کی جس قدر محنت و کوشش کرتے وہ اس کے علاوہ کسی وقت میں نہیں کرتے تھے۔“
مسلم كتاب الاعتكاف باب الاجتهاد في العشر الأواخر من شهر رمضان (1175) ، مشکوة (2089)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ہی فرمایا :
كان النبى إذا دخل العشر شد متزره وأحيي ليله وأيقظ أهله
”جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمر بستہ ہو جاتے اور اپنی رات کو زندہ رکھتے اور اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے۔“
بخاری کتاب فضل ليلة القدر باب العمل في العشر الاواخر (2024) ، مسلم (1174)

شب قدر کی دعا :۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
قلت يارسول الله ارأيت إن علمت أى ليلة القدر ما أقول فيها؟ قال: قولي اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ لیلتہ القدر کونسی رات ہے تو میں اس میں کیا کہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو کہہ : اے میرے اللہ ! یقینا تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے پس تو مجھے معاف کردے!
مشكوة (2091) ، ترمذی کتاب الدعوات باب (84) (2513) ، ابن ماجه (3850)

لیلۃ القدر کی تلاش :۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تحروا ليلة القدر فى الوتر من العشر الأواخر من رمضان
”شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“
بخاری کتاب فضل ليلة القدر (2017) مسلم ، (1169)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے ان میں سے کوئی خاص رات متعین نہیں۔ یہ بعض دفعہ اکیسویں رات کو بھی پائی گئی ہے۔ (مسلم : 1167) اور بعض دفعہ ستائیسویں رات کو بھی۔ (مسلم : 762)

لیلۃ القدر کی علامات :۔

لیلتہ القدر کی پہچان کے لیے مندرجہ ذیل چند صحیح علامات بیان کی گئی ہیں۔
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
صبيحة ليلة القدر تطلع الشمس لا شعاع لها كأنها طست حتى ترتفع
”شب قدر کی صبح کو سورج کے بلند ہونے تک اس کی شعاع نہیں ہوتی وہ ایسے ہوتا ہے جیسے کہ تھالی۔“
مسلم کتاب صلاة المسافرين (762)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب لیلتہ القدر کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أيكم يذكر حين طلع القمر و هو مثل شق جفنة
”تم میں سے کون اسے یاد رکھتا ہے (اس رات) جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کا کنارہ ہو۔“
مسلم ، کتاب الصيام : باب فضل ليلة القدر والحث على طلبها (1170)
ایک اور روایت میں ہے :
ليلة القدر ليلة سمحة طلقة لا حارة ولا باردة تصبح الشمس صبيحتها ضعيفة حمراء
”شب قدر پُر سکون و معتدل رات ہے جس میں نہ گرمی ہوتی ہے اور نہ سردی۔ اس کی صبح کو سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدہم ہو جاتی ہے۔“
صفة صوم النبي (ص/ 90)
شیخ سلیم الہلالی اور شیخ علی حسن عبد الحمید نے اس روایت کی سند کو حسن کہا ہے۔
مذکورہ بالا آیات و احادیث سے شب قدر کی بہت زیادہ فضیلت معلوم ہوتی ہے لہذا اس عظیم رات میں قیام تلاوت قرآن کثرت دعا جیسے امور بخشش کو ضرور اختیار کیجیے اور اپنی بخشش کا سامان پیدا کیجیے۔ وہ انسان کتنا ہی بدنصیب ہوگا جسے یہ ماہ مبارک نصیب ہو لیکن وہ اپنی بخشش اور جہنم سے رہائی نہ کروا سکے۔