مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

لڑکیوں کو چھوڑ کر لڑکوں کے لیے وقف کرنے کا حکم

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

لڑکیوں کو چھوڑ کر لڑکوں کے لیے وقف کرنا

ہماری رائے کے مطابق وقف اولاد میں سے صرف ضرورت مند کے لیے ہونا چاہیے، چاہے وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں۔ یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہ سکتا ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ مالدار کر دے وہ فقیر کے ساتھ شریک نہ ہوں، اگر یہ ختم ہو جائیں تو اس کی آمدن فقرا پر صدقہ اور مساجد کی تعمیر وغیرہ کی طرح کے نیکی اور اچھائی کے کاموں میں صرف کر دی جائے۔
[ابن باز: مجموع الفتاوى والمقالات: 17/20]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔