مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

لڑکیوں سے نفرت کی ممانعت اور ان کی اہمیت

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

«باب النبهي من كراهية البنات»
لڑکیوں سے نفرت کی ممانعت

قال الله تعالى:
«وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ ‎ ﴿٥٨﴾ ‏ يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ‎ ﴿٥٩﴾ » [النحل: 58 – 59]
”ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے۔ اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ اس کو ذلت کے ساتھ لیے ہوے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبادے۔ آہ: کیاہی برے فیصلے کرتے ہیں۔“

«عن عقبة بن عامر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تكرهوا البنات فانهن المؤنسات الغاليات.» [حسن: رواه أحمد 17373، والطبراني فى الكبير 310/17]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکیوں سے نفرت مت کرو کیوں کہ وہ غم خواری کرنے والی اور قدرو قیمت کی حامل ہوتی ہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔