سوال:
لواطت کا کیا حکم ہے؟
جواب:
لواطت اتنا شنیع جرم ہے کہ اللہ کریم نے اس کے مرتکبین پر پتھروں کا عذاب نازل کیا، ان کی بستی کو الٹا دیا گیا، اور پھر قیامت تک کے لیے ان کو نشان عبرت بنا دیا گیا۔
یقیناً فحاشی اور بدکاری کا ارتکاب وہی لوگ کرتے ہیں، جن کی فطرت مسخ ہو چکی ہو، ان میں بہیمانہ صفات در آئی ہوں اور شیطان ان پر تسلط کر چکا ہو، اس مکروہ اور خبیث فعل کا ارتکاب بندر اور خنزیر بھی نہیں کرتے، جو کفار کر لیتے ہیں۔
ہم جنس پرستی معاشرے کے لیے ناسور ہے، یہ ایسی درندگی ہے، جو زہر ہلاہل سے زیادہ قاتل ثابت ہوتی ہے۔ یہ انتہائی مہلک غلطی اور نفس کا دھوکہ ہے، جو عزت کے معیار کو تار تار کر دیتا ہے۔ اس خبیثہ سے ہر حقیقت شناس اور سلیم الفطرت انسان کو گھن آتی ہے، دل کالے ہو جاتے ہیں اور یہ انسانی صحت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ جو قومیں اس عمل میں مبتلا کر دی جائیں، اللہ کی جانب سے سخت گرفت کا شکار ہو جاتی ہیں، ناسپاسی اور نافرمانی کے برے نتائج ان کی حالت سے ظاہر ہوتے ہیں، ان کی اخلاقی زندگی کا معیار انتہائی پست ہونے لگتا ہے، عفت و عصمت کا جوہر گم کر بیٹھتی ہیں اور ہمت و شجاعت ان سے مفقود ہو جاتی ہے۔
لواطت سے رشتوں کا تقدس اور حرمت بھی ختم ہو جاتی ہے، اسی لیے قرآن نے اسے فاحشہ اور خبائث سے تعبیر کیا ہے۔ فاحشہ اس چیز کو کہتے ہیں، جو اپنی حد سے گزر جائے۔
لواطت بالا اتفاق کبیرہ گناہ ہے اور اس کی حد قتل ہے۔
❀ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
اتفقوا أن وطء الرجل الرجل جرم عظيم
فقہا کا اتفاق ہے کہ آدمی کا آدمی سے بدفعلی کرنا بہت بڑا جرم ہے۔
(مراتب الإجماع، ص 131)
❀ علامہ ابن ہبیرہ رحمہ اللہ (560ھ) فرماتے ہیں:
اتفقوا على أن اللواط حرام، وأنه من الفواحش
فقہا کا اتفاق ہے کہ لواطت حرام ہے اور یہ فاحشہ ہے۔
(الإفصاح عن معاني الصحاح: 2/255)
❀ علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ (620ھ) فرماتے ہیں:
أجمع أهل العلم على تحريم اللواط، وقد ذمه الله تعالى فى كتابه، وعاب من فعله، وذمه رسول الله صلى الله عليه وسلم
لواطت کے حرام ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کی مذمت بیان کی ہے اور اس کے مرتکب پر عیب لگایا ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔
(المغني: 9/60)
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
إجماعهم على تحريمه
لواطت کے حرام ہونے پر فقہا کا اجماع ہے۔
(تفسير القرطبي: 7/243)
❀ علامہ ابوالفرج ابن قدامہ رحمہ اللہ (682ھ) فرماتے ہیں:
أجمع أهل العلم على تحريم اللواط
لواطت کے حرام ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے۔
(الشرح الكبير: 26/271)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:
أجمع المسلمون على أن التلوط من الكبائر
مسلمانوں کا اجماع ہے کہ لواطت کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
(الكبائر، ص 56)
❀ علامہ ابن نجاس رحمہ اللہ (814ھ) فرماتے ہیں:
قد أجمع الصحابة على قتل فاعله
لوطی کو قتل کرنے پر صحابہ کا اجماع ہے۔
(تنبيه الغافلين، ص 142)
❀ علامہ ابن مفلح رحمہ اللہ (884ھ) فرماتے ہیں:
بالجملة فالإجماع منعقد على تحريمه، وقد عابه الله فى كتابه وذم فاعله
مجموعی طور پر لواطت کے حرام ہونے پر اجماع ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کے عیوب بیان کیے ہیں اور لوطی کی مذمت کی ہے۔
(المبدع: 7/386)
❀ علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (974ھ) فرماتے ہیں:
أجمعت الصحابة على قتل فاعل ذلك
لوطی کو قتل کرنے پر صحابہ کا اجماع ہے۔
(الزواجر: 2/232)
❀ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
اتفاقهم على تحريمه وأنه من الكبائر للأحاديث المتواترة فى تحريمه ولعن فاعله
فقہا کا اتفاق ہے کہ لواطت حرام ہے، نیز یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، کیونکہ متواتر احادیث میں اس کی حرمت بیان ہوئی ہے، نیز لوطی پر لعنت کی گئی ہے۔
(نيل الأوطار: 7/140)