كيا تعريض (اشارے کنایے) سے حد واجب ہو جاتی ہے

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

كيا تعريض (اشارے کنایے) سے حد واجب ہو جاتی ہے
کیا تعریض یعنی اشارہ کرنے یا کسی دوسرے پر ڈال کر بات کرنے سے حد واجب ہو جاتی ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے:
(احناف ) تعریض سے حد واجب نہیں ہو گی اگرچہ نیت قذف کی ہو ۔
(مالکیہ ) اگر قرائن سے معلوم ہو جائے کہ تعریض سے قذف مراد ہے تو حد واجب ہو جائے گی ۔
(شافعیہ ) اگر قذف کی نیت ہو اور پھر وہ اسے واضح بھی کر دے تو تعریض پر حد واجب ہو گی ۔
(حنابلہ ) امام احمدؒ سے مختلف روایات منقول ہیں ۔
➊ اس پر کوئی حد نہیں ۔
➋ اس پر حد ہے ۔
[المبسوط: 120/9 ، فتح القدير: 191/4 ، بدائع الصنائع: 42/7 ، تبين الحقائق: 200/3 ، بداية المجتهد: 432/2 ، حاشية الدسوقى: 327/4 ، القوانين الفقهية: ص / 357 ، المهذب: 273/2 ، المغني: 222/8]
(راجح) اگر قرائن و احوال سے معلوم ہو جائے کہ تعریض یا محتمل الفاظ سے مراد زنا کی تہمت ہے یا غیر محتمل الفاظ میں وہ خود اقرار کر لے تو حد واجب ہو گی بصورت دیگر نہیں ۔
کیونکہ کتاب اللہ میں مذکور تہمت سے مراد قاذف کا ایسے الفاظ سے تہمت لگانا ہے جو لغوی شرعی یا عرفی اعتبار سے زنا کی تہمت پر صادق آتے ہوں ۔
[فقه السنة: 537/2 ، الروضة الندية: 608/2]