قیدی خواتین اور ان کی اولاد کے درمیان جدائی ڈالنا
ایسا کرنا جائز نہیں ۔
حدیث نبوی ہے کہ :
من فرق بين والدة وولدها فرق الله بينه وبين أحبته يوم القيامة
”جس نے ماں اور اس کی اولاد کے درمیان جدائی ڈالی اللہ تعالیٰ اس کے درمیان اور اس کے محبوب لوگوں کے درمیان قیامت کے دن جدائی ڈال دیں گے ۔“
[حسن: المشكاة: 3361 ، صحيح ترمذي ، ترمذى: 1566 ، كتاب السير: باب فى كراهية التفريق ، دارمي: 227/2 ، أحمد: 412/5]
(شافعیؒ ) بچہ جب سات یا آٹھ سال کا ہو جائے تو جدائی ڈالنا درست ہے ۔
(مالکؒ ) جب بچے کے دانت اُگ کر ٹوٹ جائیں تب درست ہے ۔
(احناف) جب اسے احتلام ہونا شروع ہو جائے تب درست ہے ۔
(احمدؒ ) ان میں کسی صورت میں بھی جدائی نہیں ڈالی جائے گی خواہ وہ بچہ بڑا اور بالغ ہی کیوں نہ ہو جائے ۔
(اوزاعیؒ ) تب جدائی ڈالی جا سکتی ہے جب وہ اپنے باپ سے مستغنی ہو جائے ۔
[مرقاة المفاتيح: 528/6 – 529 ، تحفة الأحوذى: 573/4]
(راجح ) امام احمدؒ کا موقف حدیث کے زیادہ قریب ہے ۔