قیدیوں کے احکام: قتل، فدیہ یا احسان

تحریر: عمران ایوب لاہوری

قیدی بھی مال غنیمت میں شامل ہیں اور انہیں قتل کرنا یا فدیہ لینا یا (احسان کرتے ہوئے ) ویسے ہی چھوڑ دینا جائز ہے
وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ [التوبة: 5]
”انہیں پکڑو اور ان کا گھیراؤ کرو ۔“
حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً [محمد: 4]
”جب کافروں کو اچھی طرح کچل ڈالو تو اب خوب قید و بند سے گرفتار کرو (پھر اختیار ہے ) خواہ احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے لو ۔“
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ [الأنفال: 67]
”کسی نبی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ قیدی بنا لے حتی کہ زمین میں اچھی طرح خونریزی کرے ۔“

قیدیوں کو قتل کرنے سے متعلق دلائل حسب ذیل ہیں:

فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ [التوبة: 5]
”جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو جہاں بھی مشرکین کو پاؤ انہیں قتل کر دو ۔“
➋ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر بنو قریظہ کے چھ سو (600) سے سات سو (700) کے درمیان مردوں کو قتل کر دیا گیا اور عورتوں اور بچوں کو غلام لونڈیاں بنا لیا گیا ۔
[بخاري: 4122 ، كتاب المغازي: باب مرجع بالنبي من الأحزاب]
➌ نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو بدر کے دن قتل کیا گیا ۔
[ابن ابى شيبة: كتاب المغازى: باب غزوه بدر الكبرى ، بيهقي: كتاب السير: باب ما يفعله بالرجال البالغين منهم ، ابو داود: كتاب الجهاد: باب فى قتل الأسير صبرا ، عبد الرزاق: 205/51]

قیدیوں سے فدیہ لینے کے دلائل حسب ذیل ہیں:

➊ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں معاف فرما دیا ۔
[مسلم: 1763 ، كتاب الجهاد والسير: باب الإمداد بالملائكة فى غزوة بدر ، احمد: 30/1]
اس ضمن میں جو آیت نازل ہوئی حَتَّى يُثخِنَ فِي الْأَرْضِ اس کا معنی یہ ہے کہ جب علاقے میں کفر کا غلبہ ہو (تو اچھی طرح خونریزی کرنی چاہیے ) البتہ بعد میں جب عرب پر کفر کا تسلط ہٹ گیا تو اختیار مل گیا کہ یا تو احسان کرتے ہوئے چھوڑ دو یا فدیہ لے لو ۔
[تفسير أحسن البيان: ص / 501 ، تفسير طبري: 286/6 ، تلخيص الحبير: 204/4 ، الدر المنثور للسيوطي: 367/3 ، نيل الأوطار: 67/5]
➋ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے دو آدمیوں کا فدیہ (بنو عقیل کے ) مشرکین کے دو آدمیوں کے ساتھ دیا ۔
[مسلم: 1641 ، كتاب النذر: باب لا وفاء لنذر فى معصية الله ، احمد: 426/4 ، ترمذي: 1568 ، ابو داود: 3316 ، ابن حبان: 4859]
➌ حضرت زینب بنت محمد رضی اللہ عنہا نے ابو العاص کے فدیے میں وہ ہار بھیجا جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں دیا تھا ۔
[صحيح: صحيح ابو داود: 2341 ، كتاب الجهاد: باب فى فداء الأسير بالمال ، ابو داود: 2692 ، حاكم: 226/3 ، ابن الجارود: 1090 ، بيهقي: 322/6 ، احمد: 276/6]

احسان کرتے ہوئے چھوڑنے کے دلائل حسب ذیل ہیں:

➊ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے متعلق فرمایا:
لو كان المطعم بن عدى حيـا ثـم كـلـمـنـي فى هؤلاء النتني لتركتهم له
”اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا پھر وہ میرے پاس آ کران مرداروں کے بارے میں بات چیت کرتا تو میں ان کو اس کی خاطر چھوڑ دیتا ۔“
[بخاري: 3139 ، كتاب فرض الخمس: باب ما من النبى على الأسارى من غير أن يخمس ، ابو داود: 2689 ، احمد: 80/4]
➋ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل مکہ کے اسی (80) آدمی فجر کے وقت تنعیم کے پہاڑوں کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو قتل کرنے کے لیے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ کر قید کر لیا پھر انہیں (احسان کرتے ہوئے ) آزاد کر دیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: وَهُوَ الَّذِى كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ ”وہی ذات ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک لیا ۔“
[مسلم: 1808 ، كتاب الجهاد والسير: باب قول الله تعالى وهو الذى كف ، ابو داود: 2688 ، احمد: 124/3 ، ترمذي: 3264]
➌ اہل مکہ کے لیے (فتح مکہ کے وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اذهبوا فأنتـم الـطـلقـاء
”جاؤ تم سب آزاد ہو ۔“
[ابن اسحاق: 412/2]
(جمہور ) کافر مرد قیدیوں کا معاملہ حکمران پر موقوف ہے ۔ وہ جو بھی اسلام اور مسلمانوں کے لیے زیادہ مناسب سمجھے وہی ان تینوں میں سے اختیار کر سکتا ہے قتل ، فدیہ یا احسان ۔
(زہریؒ ، مجاہدؒ ) کافر قیدیوں سے فدیہ لینا جائز نہیں ۔
(حسنؒ ، عطاء ) قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ احسان کرنے یا فدیہ لینے میں اختیار ہے ۔
(مالکؒ ) بغیر فدیے کے احسان کرتے ہوئے چھوڑ دینا جائز نہیں ۔
(احناف ) نہ تو احسان کرتے ہوئے چھوڑنا جائز ہے اور نہ ہی فدیہ یا کسی اور چیز کے ساتھ ۔
[الأم: 144/4 ، المبسوط: 24/10 ، الإنصاف: 130/4 ، الفقه الإسلامي وأدلته: 5912/8 ، نيل الأوطار: 67/5 ، فقه السنة: 173/3]
(راجح) جمہور کا موقف راجح ہے ۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے