قیامت کی نشانی : ہر گھر میں اسلام داخل ہوگا :
عن المقداد بن الأسود رضى الله عنه يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام يعز عزيز أو ذل ذليل إما يعزهم الله عز وجل فيجعلهم من أهلها أو يذلهم فيدينون لها
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان گرامی سماعت کیا: زمین پر کوئی گھر یا خیمہ ایسا نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ دین اسلام داخل نہ فرما دیں گے۔ عزت والے (کے گھر اس) کی عزت کے ساتھ یا ذلت والے کے ہاں ذلت کے ساتھ (یعنی) یا تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس طرح عزت دیں گے کہ انہیں اہل اسلام میں سے کر دیں گے یا انہیں ذلیل کر دیں گے کہ وہ اس (دین) کے لیے ذمی اور محکوم بن جائیں گے۔ “
(احمد (5/6) حاكم (476/4) السنن الكبرى (181/9) التاريخ الكبير (151/2) مجمع الزوائد (8/6)
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا : ”یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچے گا جہاں تک لیل و نہار کی گردش موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر (خیمے) کچے اور پکے گھر میں اسے عزت والے کی عزت اور ذلت والے کی ذلت کے ساتھ داخل فرما دیں گے۔ عزت پانے والے مسلمان بن جائیں گے جبکہ ذلت پانے والے کافر ہی رہیں گے۔ “
حضرت تمیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے خاندان میں اس کا تجربہ کر لیا ہے جو مسلمان ہو گئے انہوں نے شرف و عزت کا مقام پا لیا اور جو کافر ہی رہے وہ ذلیل و خوار ہو کر جزیہ دینے پر مجبور ہوئے۔
احمد (1441/4) حاكم (477/4) السنن الكبرى (181/9) التاريخ الكبير (150/2) الزو الد ( 7/6) المعجم الكبير (1280) السلسلة الصحيحة (32/1)
فوائد :
ساری روئے زمین پر دین اسلام کا غالب ہونا قیامت کی ایک نشانی ہے جس کا وقوع لا محالہ ضروری ہے اس لیے کہ رب تعالیٰ کا اپنے بندوں سے وعدہ ہے :
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا
”اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کیے ہیں، (یہ) وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلافت عطا فرمائے گا جیسے ان لوگوں کو خلافت عطا فرمائی تھی جو ان سے پہلے تھے اور یقینا ان کے لیے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کر کے جما دے گا جسے ان کے لیے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف و خطرے کو امن و امان سے بدل دے گا۔ “
(النور : 55)
قیامت کی مذکورہ نشانی اور وعدہ خداوندی کی ایک قسط دور صحابہ اور عہد خیر القرون میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو زمین پر غلبہ عطا فرمایا، دین اسلام کو عروج بخشا، مصر و شام، روم و ایران، افریقہ اور یورپ میں دور دراز تک ممالک فتح ہوئے روئے ارضی سے کفر و شرک اور جابرانہ نظاموں کا قلع قمع ہوا اور اسلامی طرز فکر اور تہذیب و تمدن کا پرچم چہار دانگ عالم میں لہرا گیا۔
خلافت ارضی کا وعدہ ایمان و عمل صالح کے ساتھ مشروط تھا جیسے جیسے مسلمانوں کی طرف سے ایمان و عمل صالح کی شرط ہٹتی گئی ویسے ویسے مشروط (وعدہ خلافت) بھی مٹتا چلا گیا۔
اسلام پر عمل پیرا ہونے میں ہی دنیا و آخرت کی عزت ہے ورنہ بربادی و ناکامی ہے۔
وعدہ خلافت کی دوسری اور آخری قسط اس وقت ادا ہو گی جب مسلمان اپنے ایمان و عمل صالح کی شرط دوبارہ زندہ کر دکھائیں گے اور یہ امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ممکن نہیں!
لسان نبوت سے وعدہ :
حدیث نبوی ہے کہ : ”جب تک خدا کی مرضی ہو گی تم میں نبوت رہے گی پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لیں گے، پھر نبوت کے منہج پر خلافت قائم ہو گی جب تک خدا کی مرضی ہو گی پھر اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دیں گے اور اس کی جگہ کاٹ کھانے والی بادشاہت قائم ہو جائے گی اور جب تک اللہ چاہے گا وہ قائم رہے گی پھر خدا کی مرضی سے اس کا خاتمہ ہو جائے گا اور پھر جابرانہ ملوکیت کا دور دورہ ہو گا جب تک اللہ چاہے گا یہ دور رہے گا پھر خدا کی مرضی سے اس کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ پھر نبوی منہج پر (دوبارہ) خلافت قائم ہو جائے گی۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے۔
(احمد : 273/4)