قیامت کی نشانی : ہر طرف امن و امان ہوگا
عن عدي بن حاتم رضي الله عنه قال : بينا أنا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ أتاه رجل فشكا إليه الفاقة ثم أتاه آخر فشكا إليه قطع السبيل ، فقال : يا عدي ! هل رأيت الحيرة ؟ قلت : لم أرها وقد أنبئت عنها ، قال : فإن طالت بك حياة لترين الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكعبة لا تخاف أحدا إلا الله ، قلت : فيما بيني وبين نفسي فأين دعار طيء الذين قد سعروا البلاد ؟ ولئن طالت بك حياة لتفتحن كنوز كسرى ، قلت كسرى بن هرمز ؟ قال : كسرى بن هرمز ولئن طالت بك حياة لترين الرجل يخرج ملء كفه من ذهب أو فضة يطلب من يقبله منه فلا يجد أحدا يقبله منه … قال عدى فرأيت الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكمية لا تخاف إلا الله وكنت فيمن افتح كنوز كسرى ين هرمز ولئن طالت بكم حياة لترون ما قال النبى أبو القاسم : يخرج ملء كفه
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک صاحب آئے اور آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے فقر و فاقے کی شکایت کی۔ پھر دوسرے صاحب آئے اور راستے کی بدامنی کی شکایت کی۔ آنحضرت نے فرمایا: عدی ! تم نے مقام حیرہ دیکھا ہے؟ ( جو کوفہ کے پاس ایک بستی ہے) میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تو نہیں البتہ اس کا نام میں نے سنا ہے آنحضرت نے فرمایا کہ اگر تمہاری زندگی کچھ اور لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک عورت ہودج میں تنہا سفر کرے گی اور مکہ کھینچ کر کعبہ کا طواف کرے گی جبکہ اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔ میں نے (حیرت سے) اپنے دل میں کہا ، پھر قبیلہ طے کے وہ ڈاکو کہاں ہوں گے جنہوں نے شہروں میں (فتنہ فساد اور لوٹ مار کی) آگ لگا رکھی ہے۔ آنحضرت نے فرمایا : اگر تم کچھ دیر مزید زندہ رہے تو کسری کے خزانے (تم پر) کھولے جائیں گے۔ میں (حیرت سے) بول اٹھا۔ کسریٰ بن ہرمز (شاہ ایران)! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں، کسریٰ بن ہرمز! اور اگر تم کچھ دن مزید زندہ رہے تو یہ بھی دیکھو گے کہ ایک آدمی اپنے ہاتھ میں سونا چاندی بھر کر نکلے گا اور اسے کسی ایسے آدمی کی تلاش ہو گی جو (اس کی زکوٰۃ) قبول کر لے لیکن اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے۔ “ حضرت عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ہودج میں بیٹھی ہوئی تنہا عورت (والی پیش گوئی) کو تو خود دیکھ لیا کہ (عورت) حیرہ سے سفر کر کے نکلی اور اس نے کعبہ کا طواف کیا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی (ڈاکو وغیرہ) کا (راستے میں) خوف نہیں تھا۔ مجاہدین کی اس جماعت میں بھی میں خود شریک تھا جنہوں نے کسری بن هرمز کے خزانے فتح کئے اور اگر تم لوگ کچھ عرصہ مزید زندہ رہے تو یہ بھی دیکھ لو گے جو آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں (زکوۃ کا مال سونا چاندی) بھر کر نکلے گا (مگر اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا کہ ہر کوئی خوشحال ہو گا۔“
(بخاری : 3595)
عن خباب بن الأرت رضي الله عنه قال : شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو متوسد بردة له في ظل الكعبة ، قلنا له : ألا تستنصر لنا ، ألا تدعو الله لنا ؟ قال : كان الرجل فيمن قبلكم يحفر له في الأرض فيجعل فيه فيجاء بالمنشار فيوضع على رأسه فيشق باثنتين وما يصده ذلك عن دينه ويمشط بأمشاط الحديد ما دون لحمه من عظم أو عصب وما يصده ذلك عن دينه والله ليتمن هذا الأمر حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرموت لا يخاف إلا الله أو الذئب على غنمه ولكنكم تستعجلون
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت اپنی چادر کے سہارے کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے مدد طلب کیوں نہیں کرتے؟ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیوں نہیں مانگتے؟ (ہم کافروں کی ایذا رسانی سے تنگ آچکے ہیں)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا :ایمان لانے کی سزا میں تم سے پہلے امتوں کے لوگوں کے لئے گڑھا کھودا جاتا اور انہیں اس میں پھینک دیا جاتا پھر ان کے سر پر آرا رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتے۔ لوہے کے کنگھے ان کے گوشت میں دھنسا کر ان کی ہڈیوں اور پٹھوں پر پھیرے جاتے پھر بھی وہ اپنے ایمان پر قائم رہتے۔ اللہ کی قسم یہ امر (اسلام) کمال کو پہنچے گا اور ایک وقت آئے گا کہ ایک سوار مقام صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا (لیکن راستوں کے پرامن ہونے کی وجہ سے) اسے اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہ ہوگا یا صرف بھیٹر یے کا ڈر ہوگا کہ کہیں اس کی بکریوں کو نہ کھا جائے لیکن تم لوگ جلد بازی سے کام لیتے ہو۔“
(بخاری : 3612 ، احمد : 147/5)
فوائد :
1۔ قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ ہر طرف امن و امان اور عدل و انصاف ہو گا، لوگوں کو آمد و رفت میں کسی فتنے، چوری، ڈاکے یا قتل و غارت کا خوف نہیں ہو گا۔
2۔ قیامت کی مذکورہ نشانی عہد صحابہ کرام میں واقع ہو چکی ہے جیسا کہ حضرت عدی رضی اللہ عنہ (راوی حدیث) نے دو باتوں کا خود مشاہدہ کیا اور تیسری نشانی بھی عہد صحابہ میں گزر چکی ہے۔
3۔ دین اسلام پر عمل کرنے میں سخت دشواریوں کا سامنا ناگزیر ہے جو فی الحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کی آزمائش اور امتحان ہوتا ہے کہ کھوٹے کھرے کا امتیاز ہو جائے البتہ ابتلا و آزمائش کے بعد دنیا میں بھی صبر و استقامت کا پھل ضرور ملتا ہے۔
4۔ عہد صحابہ میں پھر عہد اموی بلکہ عہد عباس میں بھی مسلمانوں کو داخلی و خارجی امن و امان اور مال و دولت و خوشحالی کا سماں میسر رہا اگرچہ اس دورانیے میں مسلمان باہم جنگ و جدل سے بھی دو چار ہوئے مگر بحیثیت مجموعی مسلمان امن و امان سے زندگی بسر کر رہے تھے جبکہ کفار کو ہر آن مسلمانوں کی فتوحات کا خوف و خطرہ لاحق رہتا تھا مگر آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ مسلمان ہر جگہ داخلی انتشارات کا شکار ہونے کے ساتھ خارجی حملوں اور غیر مسلموں کی سازشوں سے بھی محفوظ نہیں اور اس کا سبب خود مسلمانوں کی اسلام سے عملی بے راہ روی اور کافروں کی مشابہت و تابعداری ہے۔ بقول شاعر :
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر
5۔ امن و امان کا ایک سنہری دور امت مسلمہ دیکھ چکی ہے جبکہ اسی طرح کا دوسرا سنہری اور یادگار دور اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور امام مہدی کے ظہور کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہو گا۔