قیامت کی نشانی : گانا بجانا رواج پا جائے گا
عن أبى عامر رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف ، ولينزلن أقوام إلى جنب علم يروح عليهم بسارحة لهم ، يأتيهم يعني الفقير لحاجة فيقولوا : ارجع إلينا غدا فيبيتهم الله ويضع العلم ويمسخ آخرين قردة وخنازير إلى يوم القيامة
حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں کچھ ایسے برے لوگ پیدا ہوں گے جو زناکاری، ریشمی لباس، شراب اور گانے بجانے کو حلال کر لیں گے اور (ان میں سے) کچھ لوگ پہاڑ کی چوٹی پر (اپنے بنگلوں میں رہائش کے لیے) چلے جائیں گے۔ ان کے چرواہے صبح و شام مویشی لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس کوئی فقیر اپنی حاجت کی غرض سے آئے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات ہی انہیں (سرکشی کی وجہ سے) ہلاک کر دیں گے، ان پر پہاڑ گرا دیں گے اور ان میں سے باقی بچنے والوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور خنزیر کی صورتوں میں مسخ کر دیں گے۔“
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ شراب و کباب اور لہو ولعب (میوزیکل شو) میں رات گزارے گا پھر صبح کو وہ بندر اور خنزیر بن چکے ہوں گے اور ان میں سے جو بچ رہیں گے ان پر اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجیں گے جو انہیں اس طرح تباہ و برباد کر دے گی جس طرح پہلی (نافرمان) قوموں کو برباد کیا گیا۔ یہ سزا انہیں اس لیے ملے گی کہ انہوں نے شراب پینے، گانے بجانے اور گانے والیاں فاحشہ (کنجریاں) رکھنے کو حلال کر لیا ہوگا۔“
[بخاری: کتاب الاشربة: باب ما جاء فيمن يستحل الخمر ويسميه بغير اسمه (5590)]
ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی محرمات (سود، شراب اور ریشم وغیرہ) کے استعمال کا جواز مہیا کر لیا ہوگا۔
[احمد (325/5 – 412) مجمع الزوائد (19/8) الترغیب (101/3) طبرانی (118/5)]
فوائد
(1) مسلمانوں میں گانے بجانے کا رواج پا جانا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) قیامت کی مندرجہ ذیل نشانی وقوع پذیر ہو چکی ہے۔
(3) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گانے بجانے سے سخت نفرت و بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اسے حرام قرار دیا ہے۔
(4) ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ
”اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لہو الحدیث کو مول لیتے ہیں تاکہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔“
[لقمان: 6]
آیت مذکورہ میں لہو الحدیث سے مراد گانا بجانا، اس کے ساز و سامان، آلات موسیقی، طوائفیں، رقاصائیں، ٹی وی، وی سی آر، وغیرہ ہیں۔
(5) کچھ لوگ جو گانے بجانے اور میوزیکل فنکشن میں رات گزاریں گے صبح کو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ اس پیش گوئی کی جزوی صورتیں وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ اب کچھ عرصہ پہلے کا واقعہ ہے جسے تمام ملکی اخبارات نے شائع کیا کہ مانسہرہ کے قریب پہاڑ کی سلائیڈنگ کے ساتھ ایک بستی مکمل طور پر دھنس گئی اور سینکڑوں لوگ پہاڑ تلے کچل جانے سے جان بحق ہوئے اور یہ علاقہ صحت افزا تفریح گاہ ہونے کے ساتھ فحاشی کے اڈوں کے ساتھ آراستہ تھا جس پر بالآخر اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب کا کوڑا برسایا۔