قیامت کی نشانی : کفار کی تقلید
وعن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: لا تقوم الساعة حتى تأخذ أمتي بأحد القرون قبلها شبرا بشبر وذراعا بذراع، فقيل: يا رسول الله! كفارس والروم؟ فقال: ومن الناس إلا أولئك
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت اس طرح گذشتہ امتوں کے مطابق نہیں ہو جائے گی جس طرح بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! گذشتہ امتوں سے مراد کون ہیں، کیا فارسی اور روم (نصرانی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہیں تو پھر اور کون؟“
[بخاری (7319) احمد (428/2 – 443) احمد (484/2)]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی گذشتہ امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ کسی ساندے (مثل گوہ) کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے (اور سوراخ میں داخل ہو جاؤ گے)۔“ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! (گذشتہ اقوام سے) آپ کی مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ فرمایا: ”پھر اور کون؟“
[بخاری: کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ: باب قول النبی "لتتبعن سنن من کان قبلکم” (7320) مسلم (2669) احمد (432/2 – 698 – 594) ابن ماجه (377/2) حاکم (93/1)]
ایک روایت میں ہے کہ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا وہ اہل کتاب ہیں؟ فرمایا: ”(یہ نہیں تو) پھر اور کون (ہو سکتے ہیں)؟“
ایک روایت میں ہے کہ اگر بنی اسرائیل میں سے کوئی شخص کسی ساندے کی بل میں داخل ہوا تو تم بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے اس میں داخل ہو جاؤ گے۔
[مسند احمد (118/3)]
ابو واقد اللیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے حنین کی طرف عازم سفر ہوئے تو ایک (بیری کے) درخت سے گزر ہوا جسے «ذات أنواط» کہا جاتا تھا اور مشرکین (برکت کیلئے) اس پر اسلحہ لٹکایا کرتے تھے۔ چند صحابہ (جو نو مسلم تھے) انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! جس طرح ان (مشرکوں) کا ذات أنواط ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بھی کوئی (درخت) ذات أنواط مقرر فرمادیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بات سن کر) فرمایا: ”اللہ اکبر! یہ تو ایسے ہے جیسے بنی اسرائیل نے کہا تھا: (اے موسیٰ!) ہمارے لیے بھی کوئی معبود مقرر کر دیں جس طرح ان کافروں کے لیے معبود ہیں۔ البتہ تم ضرور گذشتہ قوموں کے طریقوں کو اختیار کر لو گے۔“
[احمد (2185) ترمذی (2180) طیالسی (191) عبد الرزاق (369/11)]
فوائد
(1) کفار کی تقلید و مشابہت قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) مذکورہ نشانی عرصہ دراز سے ظاہر ہو کر اپنے آخری مراحل کو چھو رہی ہے۔
(3) مسلمان بالعموم کفار اور بالخصوص یہود و نصاریٰ کی پیروی میں اس قدر مشابہت (Likeness) اختیار کریں گے کہ مسلم و غیر مسلم میں تفریق و تشخص اور امتیاز و افتراق مٹ جائے گا۔ آج اس علامت کا ظہور کسی سے مخفی نہیں رہا۔
(4) امت مسلمہ کفار کی مشابہت میں اس قدر احمق اور جاہل ہو جائے گی کہ اگر مذکورہ امتوں میں سے کسی نے جہالت کا ثبوت دیتے ہوئے گوہ یا ساندے کے سوراخ (بل) میں گھسنے کی کوشش کی ہوگی یا بعض روایات کے مطابق اگر کسی نے اپنی ماں سے بدکاری کی ہو گی تو اس امت میں بھی ایسے افراد ہوں گے جو ایسا عمل بد انجام دیں گے۔ (نعوذ باللہ من ذلك)
(5) آج پوری امت مسلمہ اپنے سیاسی، اقتصادی، سماجی، معاشی اور تعلیمی معاملات میں غیر مسلموں کے رنگ میں رنگی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کی ایک لمبی تاریخ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:
➊ جب عجم مفتوح ہوا تو اہل عجم کی شاہانہ طرز زندگی کا سرطان بڑی تیزی سے اہل اسلام میں سرایت کر گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان پر تعیش زندگی گزارنے کے دلدادہ ہو گئے۔ رقص و موسیقی اور گاجے باجے سے مزین محافل و مجالس کا اہتمام اس کی ایک ادنی سی مثال ہے۔
➋ جب تاتاویوں کے حکمران طبقے نے اسلام قبول کیا تو اس نے اپنی خواہش و مرضی کے مطابق اسلام کو مسخ کیا اور حکمران ہونے کے ناطے انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا اور نہ ہی انہیں کسی روک ٹوک کا سامنا تھا۔
➌ پھر جب اہل یورپ نے مسلمانوں کے علوم و فنون سے استفادہ کر کے بہت سی ایجادات پیش کیں تو مسلمان اہل یورپ سے مرعوب ہو کر ان کی طرف مائل ہوتے گئے اور ان سے اپنی علمی وراثت حاصل کرنے کی بجائے ان کی حیوانوں کی سی زندگی کو تہذیب و ثقافت (Culture) کا نام دے کر اسے اپناتے اور عملاتے گئے۔
➍ ادھر برصغیر میں ہندوؤں کے ساتھ ایک خاصا وقت مشترک گزارنے کے ساتھ بہت سی ہندوانہ رسوم بھی مسلمانوں میں در آئیں جن میں بت پرستی، قبر پرستی اور مزار پرستی جیسے مشرکانہ عقائد خاصے نمایاں ہیں۔
➎ آج بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے تمام نظام ہائے زندگی مثلاً (Politics, Culture, Education, Sociology, Economics) کفار بالخصوص اہل مغرب سے مستعار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے خلاصی کی توفیق عطا فرمائیں۔ (آمین)