قیامت کی نشانی : کاروبار میں عورتیں بھی شریک ہوں گی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : کاروبار میں عورتیں بھی شریک ہوں گی

عن ابن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: بين يدي الساعة تسلم الخاصة وتفشو التجارة حتى تشارك المرأة زوجها فى التجارة
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے صرف خاص لوگوں کو سلام کیا جائے گا اور تجارت پھیل جائے گی حتی کہ عورت اپنے خاوند کے کاروبار میں مشارکت کرے گی۔“
[احمد (509/1 – 333/5) حاکم (493/4) مجمع الزوائد (635/7) السلسلة الصحيحة (246/2) البزار (4307) الادب المفرد (1053) عبد الرزاق (5137)]
عن عمرو بن تغلب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن من أشراط الساعة أن يفشو المال ويكثر وتفشو التجارة
حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ مال و دولت کی فراوانی ہو گی اور تجارت (خوب) پھیل جائے گی۔“
[نسائی (4461) احمد (69/5) السلسلة الصحيحة (251/2)]
فوائد
(1) تجارت کا پھیل جانا قیامت کی ایک علامت ہے۔
(2) کاروبار اس قدر وسیع ہو جائیں گے کہ عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوں گی۔
(3) شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے عورت تجارت کر سکتی ہے۔
[بخاری: کتاب البیوع: باب الشراء والبيع مع النساء (2155)]
(4) لوگوں کا غیر محرم خواتین کو کاروبار میں شریک کرنا، پرائیویٹ سیکرٹری مقرر کرنا، پردے کا اہتمام نہ کرنا، مخلوط محفلوں کا انتظام کرنا، عورت کو کشش اور تجارت میں وسعت کے لیے استعمال کرنا سب حرام امور ہیں۔
(5) قیامت سے پہلے بے برکتی پھیل جائے گی حتی کہ سارے گھر والے بھی کمائی کریں تو پھر بھی ”پوری نہیں ہو گی۔“
(6) مذکورہ علامتیں آج کے معاشرے میں بدرجہ اتم دکھائی دیں گی جن سے اجتناب ضروری ہے۔
(7) معیشت (Economics) پر ملکوں اور قوموں کی ترقی کا دارو مدار ہو گا۔