قیامت کی نشانی : مال و دولت کی فراوانی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : مال و دولت کی فراوانی

وعن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى يكثر المال ويفيض حتى يخرج الرجل بزكاة ماله فلا يجد أحدا يقبلها
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ مال بکثرت ہو جائے گا۔ (مال و دولت کی اتنی کثرت ہوگی کہ آدمی زکوۃ کا مال لے کر نکلے گا مگر کوئی زکوۃ لینے والا نظر نہیں آئے گا۔“
بخاری: کتاب الزکوة: باب الصدقة قبل الرد (1411) مسلم (1011) احمد (549/2) ابن ماجہ (4069)
وعنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى يفيض فيكم المال وحتى يهم الرجل بماله من يقبله منه حين يتصدق به فيقول الذى يعرض عليه لا أرب لي به
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے قبل مال و دولت کی فراوانی ہوگی حتی کہ آدمی صدقہ کرنے کے لیے مال لے کر نکلے گا مگر جس شخص پر مال پیش کرے گا وہ یہی کہے گا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔“
بخاری: ایضا (1412) مسلم (157) ابن ماجہ (4096) احمد (701/2)
عن حارثة بن وهب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تصدقوا فإنه يوشك أحدكم أن يخرج بصدقته فلا يجد من يقبلها منه ، وفي رواية ، فيقول الذى أعطيها لو جئت بها بالأمس لقبلتها وأما الآن فلا حاجة لي فيها فلا يجد من يقبلها
حضرت حارثہ بن وہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ خیرات کیا کرو عنقریب (ایسا وقت آئے گا کہ) آدمی صدقہ دینے نکلے گا مگر لینے والا کوئی نہ ہوگا۔“
بخاری: ایضا (7120) مسلم (1011) نسائی (2554) احمد (413/4)
ایک روایت میں ہے کہ ”جس شخص پر صدقہ پیش کیا جائے گا وہ کہے گا: اگر تم گذشتہ روز آتے تو میں یہ مال لے لیتا مگر آج مجھے اس کی حاجت نہیں۔“
عن ثوبان رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله زوى لي الأرض فرأيت مشارقها ومغاربها وإن أمتي سيبلغ ملكها ما زوي لي منها ، وأعطيت الكنزين الأحمر والأبيض
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا تو میں نے زمین کے مشرق و مغرب (تک) کو دیکھا ہے۔ بلاشبہ میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک مجھے مشاہدہ کرایا گیا ہے اور مجھے سرخ و سفید (سونا، چاندی) دو خزانے بھی عطا کیے گئے ہیں۔“
مسلم : کتاب الفتن : باب هلاك هذه الأمة بعضهم ببعض (7258 – 2889)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے زمین کے خزانے، یا فرمایا، ان کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں۔“
مسلم: ایضا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”زمین سونے چاندی کے ستونوں کی طرح اپنے خزانے اگل دے گی، قاتل آئے گا اور (خزانے دیکھ کر) کہے گا: اس (مال) کے لیے تو میں نے قتل (جیسا جرم) کیا۔ قطع رحمی کرنے والا آئے گا اور کہے گا: اس (مال) کے لیے تو میں نے رشتہ داری توڑ لی تھی۔ چور آئے گا اور کہے گا: اس کے لیے تو میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا۔ پھر یہ سب اس خزانے کو وہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔“
مسلم : کتاب الزکوة : باب الترغیب في الصدقة (1013)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی آیا اور فقر و فاقے کی شکایت کرنے لگا پھر ایک اور آیا اور ڈاکہ زنی کی شکایت کرنے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عدی! تم نے حیرہ (مقام) دیکھا ہے؟“ میں نے کہا: دیکھا تو نہیں البتہ سنا ضرور ہے۔ فرمایا: ”اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک عورت ہودج میں تنہا سفر کرے گی اور (مکہ پہنچ کر) بیت اللہ کا طواف کرے گی اور اسے (راستے میں) صرف اللہ کا خوف ہوگا۔“ میں نے سوچا کہ ”ملے“ کے ڈاکو کہاں ہوں گے جنہوں نے ہر طرف تہلکہ مچا رکھا ہے۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) ”اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو (تمہارے سامنے) کسری کے خزانے فتح کر لیے جائیں گے۔“ میں نے کہا: کسری بن ہرمز (شاہ ایران)! فرمایا: (ہاں) کسری بن ہرمز۔ (پھر فرمایا) ”اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک آدمی مٹھی بھر کر سونا، چاندی لیے نکلے گا تاکہ کسی مستحق کو دے مگر اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔“ حضرت عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھ لیا ہے کہ ایک عورت حیرہ سے چل کر بیت اللہ کا طواف کرتی ہے اور اسے صرف اللہ کا خوف ہوتا ہے (کسی چور ڈاکو کا خطرہ نہیں) اور کسری کے خزانے فتح کرنے والوں میں تو میں خود بھی شامل تھا نیز اگر (لوگوں) تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم ابوالقاسم کی تیسری پیشین گوئی بھی دیکھ لو گے۔
بخاری : کتاب المناقب : باب کان النبي تنام عينه ولا ينام قلبه (3595) شرح السنة (31/15)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے حاکموں میں سے ایک حاکم (خلیفہ) ایسا بھی ہوگا جو چلو بھر بھر کے بلا حساب و کتاب (خوب) مال تقسیم کرے گا۔ اس کے پاس سائل آئے گا تو وہ اسے (مال لینے کی کھلی اجازت دے گا اور وہ سائل اپنی چادر بچھا کر اسے بھر لے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر بچھا کر پھر اس کے کناروں سے پکڑ کر تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح وہ چادر بھرے گا اور اٹھا کر چلتا جائے گا۔
مسلم : کتاب الفتن : باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل … (2914) حاکم (501/4) احمد (123/3)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری آخری امت میں ایک خلیفہ ہوگا جو بلا حساب مال تقسیم کرے گا۔“
جریری (راوی) فرماتے ہیں کہ میں نے ابو نصرہ اور ابو علاء (تابعی) سے پوچھا: آپ کے خیال میں وہ عمر بن عبد العزیز تو نہیں؟ ان دونوں نے فرمایا: نہیں۔
مسلم: ایضا (2913) حاکم (501/4) احمد (402/3)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قسم خدا کی! مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا خدشہ نہیں بلکہ یہ خدشہ ہے کہ دنیا تم پر اس طرح کھول دی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کھولی گئی اور تم اس کے لیے رغبت کرو گے جس طرح پہلے لوگوں نے رغبت کی تھی پھر یہ دنیا تمہیں اس طرح ہلاک کر دے گی جس طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا۔“
ایک روایت میں ہے کہ :
”تمہیں غافل کر دے گی۔“
بخاری : کتاب الجزية : باب الجزية والموادعة مع أهل الذمة والحرب (3158)
فوائد :
(1) مال و دولت کی فراوانی قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) اس نشانی کے ظہور کے دو حصے ہیں۔ ایک تو دور صحابہ سے تعلق رکھتا ہے جبکہ دوسرا امام مہدی اور حضرت عیسیٰ کے دور سے متعلق ہے۔
(3) صحابہ کرام کے دور میں روم و ایران کے خزانے فتح ہوئے اور ہر طرف مال و دولت کی ریل پیل تھی۔
(4) حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کے دور میں مال و دولت کی اس قدر فراوانی تھی کہ صدقہ زکوۃ لینے والے مستحقین بسیار کوشش سے بھی نہ ملتے تھے۔
(5) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے جو پیش گوئی فرمائی تھی وہ من و عن پوری ہوئی۔
(6) موجودہ دور میں ہر طرف لینے والے نظر آتے ہیں، دینے والے غائب ہیں۔ ان شاء الله۔
(7) قیامت سے پہلے ایک خلیفہ ظاہر ہوگا جو خیر و برکت اور مال و دولت کے ساتھ دور صحابہ کی یاد تازہ کر دے گا۔
(8) حافظ ابن کثیر، ابن حجر اور دوسرے شارحین کے نزدیک اس خلیفے سے مراد امام مہدی ہیں۔
ديكهئے النهايه فى الفتن : 57/1 فتح البارى : 88/13
نیز جملہ احادیث بھی اس کی تائید کرتی ہیں۔
(9) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روئے زمین کا مشاہدہ کرایا گیا جو قدرت انہی سے کچھ بعید نہیں۔
(10) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سرخ و سفید خزانے دیے گئے ہیں۔ اس سے مراد ”دولت“ ہے اس لیے کہ دور صحابہ میں روم و ایران کے خزانے مفتوح ہوئے۔
(11) قیامت کی نشانیوں سے پہلے پہلے صدقہ خیرات کر کے اجر و ثواب حاصل کر لینا چاہیے نیز ہر بندے کی موت اس کے لیے قیامت ہے اور موت سے پہلے صدقہ و خیرات کی فکر کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں موت کسی وقت بھی دبوچ سکتی ہے۔
(12) مسلمانوں کے لیے مال و دولت آزمائش اور فتنہ بھی ہے۔