قیامت کی نشانی : لوگ بخیل ہو جائیں گے
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : يتقارب الزمان وينقص العمل ويلقى الشح
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کی علامات میں سے ہے کہ) زمانہ قریب آ جائے گا، عمل میں نقص واقع ہوگا اور بخیلی پیدا ہو جائے گی۔“
[بخاری: کتاب الفتن: باب ظهور الفتن (7061) مسلم (157)]
وعن معاوية رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : يزداد الأمر اشدة ولا يزداد الناس إلا شحا
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ لوگ سخت اور بخیل ہو جائیں گے۔“
[مجمع الزوائد (14/8)]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بخیلی کا عام ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
[مجمع الزوائد (327/7) فتح الباری (15/13)]
فوائد
(1) بخیلی و کنجوسی کا پھیل جانا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) قیامت کی مذکورہ نشانی بڑی تیزی سے رو بہ عمل ہے۔
(3) بخیلی کے دائرہ کار میں وسائل کی بخیلی، مال و دولت کی بخیلی، فکر و نظر کی بخیلی اور قلب و عمل کی بخیلی شامل ہے۔
(4) نوافل و مستحبات میں قلبی وسعت کا اظہار یقینا اخلاقی جرأت ہے مگر لوگ فرائض و واجبات میں بھی بخیل کے شکار دکھائی دیتے ہیں۔
(5) نبوی پیش گوئی کے مطابق مذکورہ علامت قیامت میں اضافہ کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اپنے پاکیزہ اخلاقی عمل سے مذکورہ علامت کا مصداق بننے سے بہر حال گریز کرنا چاہیے۔