قیامت کی نشانی : لوگ اجنبی بن جائیں گے
عن حذيفة رضى الله عنه قال : سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الساعة فقال : علمها عند ربي لا يحليها لوقتها إلا هو ولكن أخبركم بمشاريطها وما يكون بين يديها إن بين يديها فتنة وهرج قالوا : يا رسول الله الفتنة قد عرفناها فالهرج ما هو ؟ قال : بلسان الحبشة القتل ويلقي بين الناس التناكر فلا يكاد أحد أن يعرف أحدا
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا علم میرے رب کے پاس ہے اور وہی اس کے وقت سے خوب واقف ہے لیکن میں تمہیں قیامت کی کچھ علامتیں بتاتا ہوں جو قبل از قیامت رونما ہوں گی۔ قیامت سے پہلے فتنہ اور ہرج ظاہر ہوگا۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! فتنہ تو ہم جانتے ہیں، یہ ہرج کیا ہے؟ فرمایا: ”حبشی زبان میں ہرج بمعنی قتل ہے۔ (اور فرمایا) لوگ آپس میں اجنبی ہو جائیں گے گویا کوئی دوسرے کو پہچانتا ہی نہیں ہے۔“
[احمد (509/1) حاکم (493/4) مجمع الزوائد (635/7) الادب المفرد (1053) السلسلة الصحيحة (246/2)]
فوائد
(1) لوگوں کا مسلمان ہونے کے باوجود اجنبی ہو جانا قیامت کی ایک علامت ہے۔
(2) یہ نشانی ممکن حد تک واضح ہو چکی ہے مگر بتدریج اس میں اضافہ ناگزیر ہے۔
(3) ایک ہی مسجد کے دو نمازی بھی ایک دوسرے کے حالات سے نا واقف ہوتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کا نام بھی بسا اوقات معلوم نہیں کر پاتے۔
(4) ایک گھر کے افراد اپنے پڑوسی گھر کے افراد سے اجنبی ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے شہر بالخصوص لاہور اور کراچی اس کی منہ بولتی تصاویر ہیں۔
(5) مذکورہ نشانی میں اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا مگر ہمیں اپنے عمل سے اس کے برخلاف لوگوں کے دکھ سکھ میں شامل ہونے کا ثبوت فراہم کرنا چاہیے تاکہ کم از کم مذکورہ نشانی کے مصداق نہ بن سکیں۔