قیامت کی نشانی : قریش کا خاتمہ ہو جائے گا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : قریش کا خاتمہ ہو جائے گا

وعن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أسرع قبائل العرب فناء قريش ويوشك أن تمر المرأة بالنعل فتقول: إن هذا نعل قرشي
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرب کے قبائل میں سے سب سے پہلے قریش فنا ہوں گے اور ممکن ہے کہ عورت جوتا لے کر گزرے اور کہے یہ فلاں قریشی کا جوتا ہے۔“
[احمد (444/2) مسند البزار (298/3) ابو یعلی (68/11) التاریخ الکبیر (221/4) السلسلة الصحيحة (364/2)]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! سب سے پہلے تیری قوم ہلاک ہو گی۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، کیا بنو تمیم والے پہلے ہلاک ہوں گے؟ فرمایا: ”نہیں! بلکہ یہ قبیلہ قریش پہلے موت کا شکار ہو گا اور سب لوگوں سے پہلے انہی کی ہلاکت ہو گی۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: پھر کون سے لوگ باقی رہ جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”یہی (قریش) جو لوگوں کا مرکز تھے جب یہ ہلاک ہو جائیں گے تو پھر (بلا تاخیر) سارے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔“
[احمد (28/6 – 95 – 105) السلسلة الصحيحة (596/4)]
فوائد
(1) قریش کی ہلاکت قیامت کی ایک نشانی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیش گوئی ہے جو لا محالہ ثابت ہو گی۔
(2) یہ پیش گوئی اور نشانی ابھی پوری نہیں ہوئی البتہ قریش کی اکثریت آج معدوم ہو چکی ہے اور بہت تھوڑے قریشی آج باقی ہیں۔
(3) قریش دوسرے تمام قبائل سے افضل ہے۔
(4) قریش کی فضیلت اپنی جگہ مگر انہیں نبیوں کے درجے پر فائز کرنا یا انبیاء سے بھی بڑھا دینا درست نہیں۔ ہمارے ہاں بالخصوص سندھ میں یہ رواج ہے کہ جاہل لوگ کسی قریشی (سید) کا سنتے ہی اس کی قدم بوسی شروع کر دیتے ہیں۔
(5) مذکورہ مقام عالی کے حصول کے لیے کئی بہروپنے اپنے آپ کو خواہ مخواہ قریشی بنائے جا رہے ہیں۔