قیامت کی نشانی : قرطاس و قلم (نشر و اشاعت) کا ظہور

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : قرطاس و قلم (نشر و اشاعت) کا ظہور

عن ابن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إن بين يدي الساعة تسليم الخاصة وفشو التجارة حتى تعين المرأة زوجها على التجارة وقطع الأرحام ، وشهادة الزور وكتمان شهادة الحق وظهور القلم
”حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے قریب صرف مخصوص لوگوں کو سلام کہا جائے گا، تجارت اس قدر پھیل جائے گی کہ عورت تجارت میں اپنے خاوند کا ہاتھ بٹائے گی ، رشتہ داری توڑی جائے گی، جھوٹی گواہی دی جائے گی، حق چھپایا جائے گا اور قلم کا ظہور (پھیلاؤ) ہو جائے گا۔“
احمد (509/1 – 333/5) حاکم (493/4) مجمع الزوائد (635/7) عبد الرزاق (5137) بزار (3407) الادب المفرد (1053) السلسلة الصحيحة (246/2)
عن عمرو بن تغلب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن من أشراط الساعة أن يفشو المال ويكثر …. ويلتمس فى الحي العظيم الكاتب فلا يوجد
”حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ مال و دولت کی ریل پیل ہوگی تاجر آدمی (خرید و فروخت کی لکھت پڑھت کے لئے) بہت بڑے قبیلے سے ایک کاتب (Accountant) بھی تلاش نہ کر پائے گا۔“
نسائی : كتاب البيوع : باب التجارة (4461) منحة المعبود (112/2)

فوائد :

➊ کتابوں کی کثرت اشاعت قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ مذکورہ نشانی آج پورے عروج پر ہے۔
➌ کسی وقت میں قلم و سیاہی کے ذریعہ ہاتھوں کے ساتھ بڑے بڑے کاغذات پر تصنیف و تالیف کا کام لیا جاتا تھا جو یقینا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا مزید برآں مختصر سے کام کے لئے مہینوں بلکہ سالوں کا عرصہ درکار ہوتا تھا مگر آج صورتحال یکسر مختلف ہے کمپیوٹر اور پریس مشینوں کے ذریعے سالوں کا کام مہینوں بلکہ ہفتوں اور دنوں میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے۔ اسی لئے ہر طرف لٹریچر ، رسالے، کتابیں، اشتہارات، ڈائریاں وغیرہ بکثرت دکھائی دیں گی۔ علاوہ ازیں تقریباً ہر گھر میں مخصوص طرز فکر کی حامل کتب پر مشتمل ایک لائبریری لازماً وجود رکھتی ہے مگر اس سب کے باوجود علم تیزی سے اٹھ رہا ہے اور جہالت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اس لئے کہ علم محض کتابوں کے بوجھ سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ انہیں پڑھنے اور کھنگالنے سے حاصل ہوتا ہے۔
➍ دوسری حدیث عنوان سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ بظاہر متضاد معلوم ہوتی ہے جس کی تطبیق کئی طرح سے دی جا سکتی ہے۔ مثلا :
◈ دونوں الگ الگ وقت پر رونما ہونے والی ایک دوسرے کے برعکس نشانیاں ہیں۔
◈ نشر و اشاعت تو بھرپور ہوگی مگر کاتب نہیں ملیں گے اور کمپیوٹر کے دور میں کاتبوں کی اہمیت بہر حال متاثر ہو چکی ہے۔
◈ لوگوں میں تعلیم و تعلم کا رجحان مفقود ہو جائے گا جیسا کہ موجودہ حالات میں بچوں کو شروع سے کام کاج میں مصروف کر دیا جاتا ہے اور وہ اپنا نام لکھنے سے بھی محروم ہوتے ہیں۔