قیامت کی نشانی : قرآن کو بھیک مانگنے کا ذریعہ بنا لیا جائے گا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : قرآن کو بھیک مانگنے کا ذریعہ بنا لیا جائے گا

عن جابر بن عبد الله رضى الله عنه قال : دخل النبى صلى الله عليه وسلم المسجد فإذا فيه قوم يقرءون القرآن ، فقال : اقرءوا القرآن وابتغوا به الله عز وجل من قبل أن يأتى قوم يقيمونه إقامة القدح يتعجلونه ولا يتأجلونه
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو کچھ لوگ تلاوت قرآن میں مصروف تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگو! قرآن پڑھو اور اللہ تعالیٰ سے اس کے اجر کو تلاش کرو قبل اس کے کہ ایسے لوگ آجائیں جو قرآن کو اس طرح سیدھا کرنے کی کوشش کریں گے جس طرح ہنڈیا (بناتے وقت) سیدھی کی جاتی ہے اور وہ قرآن کے ساتھ (حصول اجر میں) جلدی کریں گے (آخرت کے لئے) انتظار نہیں کریں گے۔
احمد (454/3 – 504) ابو داؤد : كتاب الصلوة : باب ما يجزئ الامى والاعجمي (830) صحيح الجامع (258/1)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا پھر (تلاوت کے بعد) اس نے مانگنا شروع کر دیا تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے انا لله وانا اليه راجعون پڑھنے کے بعد فرمایا :
عن عمران بن حصين رضى الله عنه من قرأ القرآن فليسأل الله عز وجل به فإنه سيجيء قوم يقرءون القرآن يسألون الناس به
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے قرآن پڑھا وہ اللہ تعالیٰ سے مطالبہ اور سوال کرے اور عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کریں گے۔“
احمد (578/4 – 579 – 583) ترمذی : کتاب فضائل القرآن : باب من قرأ القرآن فليسأل الله به (2917) شعب الايمان (2387) سنن سعید بن منصور (45)

فوائد :

➊ قرآن کو بھیک مانگنے کا ذریعہ بنا لینا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں ہی ایسی مثالیں منظر عام پر آ رہی تھیں کہ لوگ قرآن پڑھ کر لوگوں سے بھیک مانگتے تھے جیسا کہ حدیث نمبر 2 سے واضح ہے۔
➌ اگر آپ کو کسی ریلوے اسٹیشن، بس اڈے یا کسی اور عوامی جگہ سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ نے یہ شرمناک منظر بھی دیکھا ہو گا کہ کئی لوگ قرآن کی مخصوص سورتوں کی بآواز بلند تلاوت کر کے بھیک مانگ رہے ہیں۔
➍ قرآن مجید کے حفظ کرنے، تجوید و قرأت پڑھنے اور ترجمہ و تفسیر پڑھنے میں اصل مقصود رضائے الہی ہو، دنیوی غرض و غایت، عارضی مفادات اور نمود و نمائش قطعا نہ ہو ورنہ ثواب تو دور گناہ ضرور حاصل ہو گا۔
➎ اگر کوئی شخص قرآنی تعلیم و تربیت، خطبہ جمعہ اور امامت وغیرہ کے فرائض کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے تو اسے اجرت و معاوضہ دینا، اس کی ضروریات کو پورا کرنا جہاں عوام کا اخلاقی فرض ہے وہاں اس عالم دین کا استحقاق بھی ہے اس کی کئی ایک مثالیں احادیث میں موجود ہیں مثلاً :
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ : ایک جماعت کا ایک بستی سے گزر ہوا تو بستی والوں نے مانگنے پر بھی ان کی مہمان نوازی نہ کی پھر اچانک ان کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا اور ان کے کچھ افراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور کہا کہ تم میں کوئی دم کرنے والا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض نے اجرت لے کر دم کی حامی بھری تو انہوں نے بکریوں کے ایک ریوڑ (معاوضہ دینے) کا وعدہ کر لیا۔ صحابی رضی اللہ عنہ نے سورۃ فاتحہ سے اس پر دم کیا اور متاثرہ جگہ پر اپنا لعاب لگایا تو وہ آدمی تندرست ہو گیا اور صحابی رضی اللہ عنہ بکریاں لے کر واپس چلا گیا۔ مگر دوسرے لوگوں نے کہا کہ تو نے کتاب اللہ پر اجرت لی ہے گویا انہوں نے اس چیز کو نا پسند کیا پھر انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بھی یہی کہا کہ اس نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله
”جس چیز پر تم سب سے زیادہ اجرت لینے کے مستحق ہو وہ اللہ کی کتاب ہے۔“
بخاري : كتاب الطب : باب الشروط في الرقية بفاتحة الكتاب (5737)