قیامت کی نشانی : قتل عام ہوگا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : قتل عام (Massacre) ہوگا :

وعن عبد الله رضى الله عنه وأبي موسى رضى الله عنه قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : بين يدي الساعة أيام يرفع فيها العلم وينزل فيها الجهل ويكثر فيها الهرج والهرج القتل
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا، جھل اتارا جائے گا اور کشت و خون بکثرت ہوگا۔
(بخاری : کتاب الفتن : باب ظہور الفتن : 7062 ، مسلم : 2972 ، احمد : 387/1 ، ترمذی : 2200 ، ابن ماجة : 4100)
وعن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يأتى على الناس يوم لا يدري القاتل فيم قتل ولا المقتول فيم قتل ؟ فقيل : كيف يكون ذلك ؟ قال : الهرج ، القاتل والمقتول فى النار
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ دنیا ختم نہیں ہوگی حتی کہ لوگ وہ دن نہ دیکھ لیں جب نہ قاتل جانتا ہوگا کہ میں نے کیوں قتل کیا ؟ اور نہ مقتول کو علم ہوگا کہ اسے کیوں قتل کیا گیا؟ کہا گیا یہ کیسے ممکن ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خونریزی ، جس میں قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہوں گے۔
(مسلم : کتاب الفتن : باب لا تقوم الساعة حتی یمر الرجل بقبر الرجل : 2908)
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت سے پہلے خوب خونریزی ہو گی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا : ہم تو ایک سال میں ستر ہزار کو قتل کرتے ہیں تو کیا اس سے بھی زیادہ کشت و خون ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہارا مشرکوں کو قتل کرنا نہیں ہوگا بلکہ تم آپس میں خونریزی کرو گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا : کیا اس وقت ہمارے ہوش و حواس قائم ہوں گے؟ فرمایا : اس دن لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور وہ سمجھیں گے کہ ہم کسی چیز (حق) پر ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہوگا۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ہم اس فتنے سے صرف اس صورت میں بچ سکتے ہیں کہ ہم اس میں کسی کے خون و مال کی طرف ہاتھ نہ بڑھائیں۔
ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آدمی اپنے ہمسائے ، اپنے بھائی، چچا اور بھتیجے کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کریگا۔
(احمد : 529 ، ابن ماجة : 4007 ، شرح السنة : 68/15 ، ابن ابی شیبة : 632/8 ، السلسلة الصحیحة : 248/4)
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت پر عذاب آخرت معاف کر کے رحمت کی گئی ہے مگر انہیں دنیا میں قتل و قتال، مصائب و آلام اور زلزلوں کے ساتھ عذاب ہوگا۔
(احمد : 410/4 ، صحیح الجامع الصغیر : 104/2)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں نے اپنے رب سے سوال کیا : یا رب! میری امت کو مجموعی طور پر قحط سالی سے ہلاک نہ کرنا ، ان پر کوئی ایسا غیر مسلم دشمن مسلط نہ ہو جو ان کی مرکزیت کو بالکل نیست و نابود کر دے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے فیصلوں میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا، میں نے آپ کی اپنی امت کے حق میں یہ دعا قبول کر لی ہے کہ انہیں قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان پر کوئی غیر مسلم دشمن مسلط نہیں کروں گا جو ان کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں خواہ وہ جو مکھی ان پر حملہ آور ہو جائیں البتہ یہ آپس میں قتل و غارت کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنا لیں گے۔
(مسلم : کتاب الفتن : باب ھلاک ھذہ الامة بعضھم ببعض : 7258)

شہادت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ :

عن أبى موسى الأشعري رضى الله عنه قال خرج النبى صلى الله عليه وسلم إلى حائط من حوائط المدينة لحاجته وخرجت فى إثره ، فلما دخل الحائط جلست على بابه وقلت : لأكونن اليوم بواب النبى صلى الله عليه وسلم ولم يأمرني ، فذهب النبى صلى الله عليه وسلم وقضى حاجته وجلس على قف البئر فكشف عن ساقيه ودلاهما فى البئر ، فجاء أبو بكر رضى الله عنه يستأذن عليه ليدخل ، فقلت : كما أنت حتى أستأذن لك ، فوقف فجئت إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقلت : يا نبي الله ! أبو بكر يستأذن عليك فقال : ائذن له وبشره بالجنة ، فدخل فجاء إلى يمين النبى فكشف عن ساقيه ودلاهما فى البئر ، فجاء عمر فقلت : كما أنت حتى أستأذن لك ، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : ائذن له وبشره بالجنة ، فجاء عن يسار النبى ، ثم جاء عثمان فقلت: كما أنت حتى أستأذن لك ، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : ائذن له وبشره بالجنة معها بلاء يصيبه
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے باغات میں سے کسی باغ کی طرف اپنی کسی ضرورت کے لئے تشریف لے گئے ، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے تو میں اس کے دروازے پر اس خیال سے بیٹھ گیا کہ آج میں حضرت کا دربان بنوں گا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے، اپنی حاجت پوری کرنے کے بعد کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول کر انہیں کنوئیں میں لٹکا لیا۔ اس اثنا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اندر جانے کی اجازت مانگی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ ذرا رکیں ، میں اجازت لے کر آتا ہوں۔ چنانچہ وہ کھڑے رہے اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں لٹکا کر بیٹھ گئے، اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے ان کے لئے بھی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگنے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ خیر وہ بھی اندر جا کر کنوئیں کی منڈیر پر پنڈلیاں کھول کر بیٹھ گئے۔ اب کنوئیں کی منڈیر پر جگہ نہیں تھی کہ اتنے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آگئے ، میں نے ان کے لئے بھی اجازت مانگی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو نیز ایک آزمائش کی خبر دو جو انہیں پہنچے گی۔
(بخاری : کتاب الفتن : باب الفتنة التی تموج کالموج البحر : 7097 ، 3695)
عن أنس رضى الله عنه قال : صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدا ومعه أبو بكر وعمر وعثمان فرجف ، فقال : اسكن أحد ، فليس عليك إلا نبي وصديق وشهيدان
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے تو اچانک احد پہاڑ حرکت میں آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : احد ! سکون کر۔ تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید (کھڑے) ہیں۔
(بخاری : 3675)

فوائد :

(1) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دنیا میں جنت کی خوشخبری سنا دی گئی جس طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو سنائی گئی ہے۔
(2) اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ افضل الخلق ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ اور پھر عثمان رضی اللہ عنہ۔
(3) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت کی پیش گوئی فرمائی جو پوری ہوئی۔
(4) پہاڑ جامد چیز ہے مگر جب اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو تو جمادات میں بھی عقل و شعور اور حرکت وغیرہ کا احساس پیدا ہو سکتا ہے لہذا اس بات کو بلا تاویل تسلیم کرنا ضروری ہے۔
(5) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق شہادت کے ساتھ مصائب و آلام کی جبکہ عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں صرف شہادت کی پیش گوئی فرمائی اور فی الواقع بعینہ یہ پوری ہوئی کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بہت سے مصائب کا سامنا کرنا پڑا ، طعن و تشنیع کا شکار ہوئے ، مصر و عراق کے لوگوں نے جہالت اور سازش کی بنا پر آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور کئی روز کے محاصرے کے بعد نہایت بے دردی سے آپ کو شہید کر دیا گیا۔
(البدایة والنہایة : 170/7 – 190)
(6) شہادت عثمان رضی اللہ عنہ سے فتنوں کے ظہور میں ایک چنگاری ثابت ہوئی جس نے بلا تاخیر مسلمانوں کے باہمی کشت و خون کی ایک بہت بڑی آگ روشن کر دی۔