قیامت کی نشانی : فلک بوس عمارتیں بنانے میں مقابلے بازی ہوگی
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة … حتى يتطاول الناس فى البنيان
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی حتی کہ لوگ فلک بوس عمارتیں تیار کروانے میں مسابقت کریں گے۔“
بخاری: کتاب الفتن (7121) مسلم (10) احمد (701/2) شعب الایمان (10701) الادب المفرد (449)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : وإذا تطاول رعاة الإبل البهم فى البنيان
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سیاہ فام چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جائیں تو یہ قیامت کی نشانیوں سے ہے۔ (اس کے بعد قیامت قریب ہوگی)۔“
بخاری: کتاب الایمان (50) مسلم (10) احمد (33/1) ابو داؤد (4696) ترمذی (2610) نسائی (5001) ابن ماجه (51)
ایک روایت میں ہے کہ : ”جب تم دیکھو گے کہ جسم و بدن اور پاؤں سے ننگے، فقیر غریب اور بکریوں کے چرواہے، بڑی بڑی عمارتیں بنانے میں سبقت کریں گے۔ (تو قیامت قریب ہے)۔“
مسلم : كتاب الايمان (10) احمد (396/1)
ایک روایت میں ہے کہ : ”عمارتوں والے بڑی بڑی عمارتیں بنوانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے۔“
أحمد (224/4)
فوائد :
➊ فلک بوس عمارتوں کی تعمیر قرب قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ مذکورہ نشانی ایک عرصہ سے ظاہر ہو چکی ہے۔
➌ ضرورت اور ناگزیر حالات کے مطابق وسیع و عریض اور بقدر ضرورت بلند و بالا عمارت بنانے پر کوئی حرج نہیں کیونکہ ضروریات ممنوعات کا جواز فراہم کر دیتی ہیں۔
➍ نت نئی ایجادات اور مضبوط مسالحہ جات کی بنا پر نہایت بلند و بالا اور سینکڑوں منزلوں پر محیط فلک بوس عمارتوں کی موجودگی علامت قیامت ہونے کے باوجود ایک عجوبہ سے کم نہیں۔
➎ بہت سے افراد اور کمپنیاں فخر و مباہات ، یادگار اور بین الاقوامی ریکارڈ کے لئے اپنی بنیادوں پر فلک بوس عمارتیں (Buildings) تیار کرواتے ہیں۔ لاہور کا ”مینار پاکستان“ اور پیرس کا ”ایفل ٹاور“ وغیرہ اسی کی منہ بولتی مثالیں ہیں جبکہ ایسے ہی ایک سو دس (110) منزلوں پر محیط امریکہ میں”ورلڈ ٹریڈ سنٹر (W.T.C)“ کے جڑواں ٹاورز جو در حقیقت خدائے واحد کی کبریائی اور حاکمیت کو کھلا چیلنج تھے، ایک خطرناک تباہی سے دوچار ہو کر دوسروں کے لئے نشان عبرت بن چکے ہیں۔