قیامت کی نشانی : فحاشی پھیل جائے گی
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إن الله لا يحب الفحش والتفحش أو يبغض الفاحش والمتفحش ، قال : ولا تقوم الساعة حتى يظهر الفحش والتفاحش
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا اللہ تعالیٰ بے حیائی پھیلنے اور پھیلانے کو ناپسند کرتا ہے یا بے حیائی پھیلانے والے سے بغض رکھتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ بے حیائی (خوب) پھیل جائے گی۔“
احمد (217/2) حاکم (559/4) مجمع الزوائد (632/7) وسنده صحیح
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”فحاشی بے حیائی اور قطع رحمی کا پھیل جانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔“
مجمع الزوائد (284/7)
فوائد :
(1) فحاشی وعریانی اور بے حیائی کا پھیلنا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) اس نشانی کا ظہور عرصہ دراز سے رو بہ ترقی ہے۔
(3) فحاشی وعریانی کا دائرہ کافی وسیع ہے جس میں عورتوں کی بے پردگی، مردوں سے اختلاط، مخلوط مجالس و مخلوط تعلیم (Co-Education)، گالی گلوچ، برے کام، برے رسم و رواج، بری عادات (Bad Habits) وغیرہ شامل ہیں۔
(4) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق فحاشی وعریانی کا پھیلنا لامحالہ قطعی ہے مگر ہمیں اس پیش گوئی کا مصداق بننے سے حتی المقدور گریز کرنا چاہیے۔
(5) قرآن مجید کا فیصلہ :
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
”جولوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔“
النور : 19