قیامت کی نشانی : فتنے مشرق سے ظاہر ہوں گے :
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يشير إلى المشرق فقال : ها إن الفتنة هاهنا ، من حيث يطلع قرن الشيطان
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرما رہے تھے، ہاں فتنہ اسی طرف سے نکلے گا ، فتنہ اسی طرف سے نکلے گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔ (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی)۔
(بخاری : کتاب بدء الخلق : باب صفة ابلیس وجنودہ : 3279 ، 3104 ، مسلم : 2905 ، ابو یعلی : 5511 ، ابن ابی شیبة : 185/12)
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : ذكر النبى صلى الله عليه وسلم اللهم بارك لنا فى شامنا ، اللهم بارك لنا فى يمننا ، قالوا يا رسول الله ! وفي نجدنا ؟ قال : اللهم بارك لنا فى شامنا ، اللهم بارك لنا فى يمننا ، قالوا يا رسول الله ! وفي نجدنا ؟ فأظنه قال فى الثالثة : هناك الزلازل والفتن وبها يطلع قرن الشيطان
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی یا اللہ ! ہمارے لئے شام میں برکت نازل فرما، الہی ہمارے لئے یمن میں برکت نازل فرما، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور ہمارے نجد (عراق) کے لئے بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے شام میں ہمارے لئے برکت فرما، اے اللہ ! ہمارے لئے یمن میں برکت فرما۔ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے نجد (عراق) کے لئے بھی دعا کریں۔ (راوی نے کہا) میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا : وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔
(بخاری : کتاب الفتن : باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم الفتنة من قبل المشرق : 7094 ، ترمذی : 3979 ، ابن حبان : 7257 ، شرح السنة : 206/14 ، احمد : 118/2)
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : دعا النبى صلى الله عليه وسلم : اللهم بارك لنا فى صاعنا وفي مدنا وبارك لنا فى شامنا ويمننا ، فقال رجل من القوم : يا نبي الله ! وفي عراقنا ؟ قال : إن بها قرن الشيطان وتهيج الفتن وإن الجفاء بالمشرق
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی یا اللہ ! ہمارے صاع اور مد میں برکت فرما ، الہی ! ہمارے یمن و شام میں برکت فرما۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے عراق کے لئے بھی دعا کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوگا اور فتنے ابلیں گے۔ بلاشبہ جور و جفا مشرق میں ہے۔
(المعجم الکبیر : 13422 ، الحلیة : 133/6 ، مختصر الترغیب : 87 ، مجمع الزوائد : 308/3)
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يشير بيده نحو العراق : ها إن الفتنة هاهنا ، ها إن الفتنة هاهنا ، ثلاث مرات ، من حيث يطلع قرن الشيطان
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عراق کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں : خبر دار بے شک فتنہ یہاں سے نمودار ہوگا، خبر دار بلاشبہ فتنہ یہاں سے ظاہر ہوگا۔ آپ نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔ یہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔
(احمد : 143/2 ، ابن ابی شیبة : 180/12 ، ابو یعلی : 5511)
وعن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : رأس الكفر نحو المشرق
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کفر کا سرچشمہ مشرق ہے۔
(بخاری : 3301 ، مسلم : 92 ، احمد : 506/2)
فوائد :
(1) مشرق سے فتنوں کا ظہور قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) مدینے کے مشرق میں کئی ایک علاقے شامل ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عراق کہہ کر فتنوں کے مرکز کی تعیین و تحدید کر دی ہے۔
(3) بعض روایات میں فتنوں کا مرکز نجد قرار دیا گیا ہے اور ہر سطح مرتفع اور بلند زمین کو نجد کہتے ہیں۔
(لسان العرب : 45/14 ، القاموس : 352/1)
عرب میں تقریبا دس نجد ہیں۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عراق کہہ کر نجد کی تعیین کر دی ہے لہذا فتنوں کی سرزمین نجد عراق ہے نجد یمن یا کوئی اور نجد نہیں۔
(4) تاریخ گواہ ہے کہ تمام فتنے عراق سے پھوٹتے رہے ہیں مثلا خوارج ، شیعہ، رافضی ، باطنی، جہمیہ، قدریہ، معتزلہ، اور تمام گمراہ فرقے اسی کی پیداوار ہیں۔ جمل اور صفین کی خونریز جنگیں بھی اسی سرزمین پر ہوئیں۔
(5) بارہ صدیوں تک تمام اہل اسلام کا متفقہ فیصلہ یہی رہا کہ نجد قرن شیطان سے مراد عراق ہی کا علاقہ ہے لیکن بارہویں صدی کے بعد اہل بدعت نے احادیث مذکورہ کا مفہوم بگاڑ کر انہیں محمد بن عبد الوہاب جیسے عظیم مصلح پر چسپاں کرنا شروع کر دیا حالانکہ شیخ مذکور کا تعلق نجد عراق سے نہیں بلکہ نجد یمن سے ہے جس کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا فرمائی ہے۔ علاوہ ازیں شیخ موصوف نے ساری زندگی محنت کر کے اہل عرب کو مرکز توحید پر جمع کر دیا اور ان کے باہمی اختلافات اور افتراق و انتشار کو اتفاق و اتحاد میں بدل دیا۔
سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ :
اے عراق کے رہنے والو ! تم چھوٹے چھوٹے مسائل کس قدر دریافت کرتے ہو اور کبائر کا ارتکاب کرتے ہو، میں نے اپنے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : بے شک فتنہ یہاں سے ظاہر ہو گا اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا کہ یہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔
(مسلم : کتاب الفتن : باب الفتنة من المشرق من حیث یطلع قرنا الشیطان : 2905)