قیامت کی نشانی : فتنوں کا ظہور

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : فتنوں کا ظہور :

عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : بادروا بالأعمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا ، أو يمسي مؤمنا ويصبح كافرا ، يبيع دينه بعرض من الدنيا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جلدی جلدی اعمال صالحہ بجالاؤ (کیونکہ) اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے (نازل ہونے والے) ہیں۔ صبح کو آدمی مؤمن ہوگا تو شام کو کافر ہو جائے گا یا شام کو مومن ہوگا مگر صبح تک کافر ہو چکا ہوگا۔ وہ عارضی دنیا کے لئے اپنا دین بیچ ڈالے گا۔
(مسلم : کتاب الایمان : باب الحث علی المبادرة بالاعمال قبل تظاہر الفتن : 118 ، ترمذی : 2196 ، احمد : 304/2)
وعن أم سلمة رضي الله عنها زوج النبى قالت : استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة فزعا ، يقول : سبحان الله ماذا أنزل الله من الخزائن ؟ وماذا أنزل من الفتن ؟ من يوقظ صواحب الحجرات ، يريد أزواجه ، لكي يصلين ؟ رب كاسية فى الدنيا عارية فى الآخرة
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھے اور فرمایا : سبحان اللہ ! کس قدر خزانے اور فتنے اللہ کی طرف سے نازل کئے گئے ہیں؟ حجرے والیوں (ازواج رسول) کو کون اٹھائے گا تاکہ وہ نماز پڑھیں؟ کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پہنے ہوں گی مگر آخرت میں ننگی ہوں گی۔
(بخاری : کتاب الفتن : باب لا یاتی زمان الا الذی بعدہ شر منہ : 7069)
وعن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يتقارب الزمان وينقص العمل ويلقى الشح وتظهر الفتن ويكثر الهرج ، قالوا وما الهرج يا رسول الله ؟ قال : القتل ، القتل
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (علامات قیامت یہ ہیں) زمانہ قریب آجائے گا ، عمل کم ہو جائے گا ، بخل عام ہو جائے گا ، فتنے ظاہر ہوں گے ، ھرج بکثرت ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھرج کیا ہے؟ فرمایا : قتل ، قتل۔
(بخاری : کتاب الفتن : باب ظہور الفتن : 7061 ، مسلم : 11 ، ابو داؤد : 4255 ، ابن ماجة : 4101 ، احمد : 380/2)
عن أسامة رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم أشرف على أطم من آطام المدينة ، ثم قال : هل ترون ما أرى؟ قالوا : لا ، قال : إني لأرى مواقع الفتن خلال بيوتكم كمواقع القطر
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کے کسی اونچے مکان پر چڑھے پھر فرمایا : کیا تم بھی دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا : نہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلاشبہ میں بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں کے درمیان فتنے گرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
(مسلم : کتاب الفتن : باب نزول الفتن کمواقع القطر : 7245)

فوائد :

(1) قیامت کی نشانی یہ ہے کہ فتنے بڑھ جائیں گے۔ لفظ فتنہ امتحان و آزمائش اور نا پسندیدہ چیزوں پر استعمال کیا جاتا ہے مثلا گناہ، کفر، قتل و غارت گری وغیرہ۔
(النہایة فی غریب الحدیث : 410/3 ، فتح الباری : 13/3)
(2) دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ظہور ہو چکا ہے جو بکثرت بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
(3) فتنہ فی الواقع غیر محسوس چیز ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا وجود دکھا دیا۔
(4) فتنوں کے ظہور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جزوی پیشن گوئیاں بھی فرمائی ہیں جو بالتفصیل درج کی جائیں گی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فتنوں کے درمیان رکاوٹ ہیں :

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ فتنوں کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کس سے ازبر ہیں؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مجھے وہ من وعن یاد ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : پیش کرو تم واقعی جرات مند ہو۔ کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدمی کے اہل و عیال اور مال و دولت اس کے لئے فتنہ ہیں جو اسے نماز، زکوۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے اعمال سے مانع ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس فتنے کے بارے میں نہیں پوچھتا، میں تو اس فتنے کے بارے میں پوچھتا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈتا چلا آئے گا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کو تو اس فتنے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ (رکاوٹ) ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا؟ میں نے کہا: توڑا جائے گا۔ کہا: پھر یقینا اسے بند نہیں کیا جاسکے گا؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس دروازے کے متعلق جانتے تھے؟ فرمایا : ہاں! جس طرح مجھے یقین ہے کہ کل سے پہلے رات آئے گی کیونکہ میں نے ایسی بات بیان کی تھی جو بے بنیاد نہیں تھی۔ ہمیں ان سے یہ پوچھنے میں ڈر لگا کہ وہ دروازہ کون ہے؟ چنانچہ ہم نے مسروق رحمہ اللہ (تابعی) سے کہا (کہ وہ پوچھیں) جب انہوں نے پوچھا کہ وہ دروازہ کون تھا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : وہ دروازہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔
(بخاری : کتاب الفتن : باب الفتنة التی تموج کموج البحر : 7096)

فوائد :

(1) حضرت عمر رضی اللہ عنہ فی الواقع فتنوں کے درمیان مضبوط رکاوٹ تھے۔
(2) دروازے سے مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔
(3) دروازے کا توڑا جانا آپ کی شہادت کی طرف اشارہ تھا۔
(4) خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی مقصود حدیث جانتے تھے۔
(5) فتنوں سے مراد کشت و خون اور قتل و غارت گری ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد شروع ہوئے اور آج تک جانبر نہ ہو سکے بلکہ یہ قیامت تک بتدریج بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔
(6) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک مجوسی النسل غلام فیروز ابولولو نے بوقت فجر حالت نماز میں شہید کیا۔