قیامت کی نشانی : غریب امیر ہو جائیں گے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : غریب امیر ہو جائیں گے

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال : كان النبى صلى الله عليه وسلم بارزا يوما للناس ، فأتاه رجل فقال : متى الساعة ؟ قال : ما المسئول عنها بأعلم من السائل ، وسأخبرك عن أشراطها : إذا ولدت الأمة ربتها وإذا تطاول رعاة الإبل البهم فى البنيان فى خمس لا يعلمهن إلا الله ثم تلا النبى صلى الله عليه وسلم :- إن الله عنده علم الساعة
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے تشریف فرما تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا اور پوچھنے لگا کہ : قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس سے سوال کیا گیا ہے وہ بھی سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا البتہ میں تمہیں قیامت برپا ہونے کی کچھ نشانیاں بتائے دیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب اونٹوں کے غیر معروف سیاہ فام چرواہے فلک بوس عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جائیں گے (تو قیامت قریب ہوگی)۔ در حقیقت قیامت ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : بے شک اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے۔
لقمان (34) ، بخاری: کتاب الايمان : باب سوال جبريل النبي صلی اللہ علیہ وسلم مسلم (10) احمد (33/1 – 62) ابو داؤد (4696) ترمذی (2610) ابن حبان (173) ابن ماجه (51) نسائی (5001) طیالسی (21) شعب الايمان (3973)
صحیح مسلم کی روایت میں الفاظ اس طرح مذکور ہیں :
وإذا رأيت الحفاة العراة الصم البكم ملوك الأرض فذاك من أشراطها
”اور جب تم دیکھو گے کہ جسم اور پاؤں سے ننگے، گونگے ، بہرے (غریب اور اجڈ لوگ) زمین کے بادشاہ بن چکے ہیں تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی) ہے۔“
مسلم (10)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان فرماتے ہیں کہ : قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ چھوٹے اور کمینے گھروں والے صالح لوگوں پر غالب آجائیں گے۔
مجمع الزوائد (327/7) الفتح (15/13)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ ذلیل ابن ذلیل دنیا پر غالب آجائے گا۔
احمد (535/5) مجمع الزوائد (630/7) عبد الرزاق (316/11) السلسلة الصحيحة (9/4)
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم دیکھو کہ لونڈی مالک کو جنم دے رہی ہے، چرواہے فلک بوس عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جا رہے ہیں اور ننگے، بھوکے اور فقیر لوگوں کے سردار بن چکے ہیں تو یہ قیامت کے آثار و نشانات ہیں۔ (کہ قیامت برپا ہونے والی ہے)
احمد (396/1) مجمع الزوائد (191/1) الفتح البارى (142/1) الدر المنشور (170/1) بخاری : کتاب التفسير : باب قوله ان الله عنده علم الساعة (4777)
فوائد :
➊ غریب، فقیر اور اجڈ قسم کے لوگوں کا مالدار اور صاحب حیثیت ہو جانا قرب قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ کسی وقت میں عرب کا علاقہ صحراؤں اور ریگستانوں پر مشتمل تھا اور یہاں کے اکثر مکینوں کا گزر بسر مویشی پالنے پر منحصر تھا مگر جب سے اللہ تعالیٰ نے عرب کے صحراؤں میں تیل کے چشمے جاری فرمائے ہیں تب سے عرب کے صحرا مرغزاروں میں اور ریگستان چمنستانوں میں بدل گئے ہیں اور ہر طرف خوشحالی اور مال و دولت کی فراوانی عیاں ہے۔
➌ کئی لوگ جو بظاہر بھکاری ہوتے ہیں مگر حقیقت منکشف ہونے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ بھکاری تو لاکھوں میں کھیلنے والا ہے۔ چند روز یہ واقعہ اخبارات کی زینت بنا کہ سرحد کے کسی علاقے میں کوئی بھکاری ذاتی کار پر بھیک مانگنے کے لئے آتا ہے اور بھیک مانگنا ایسا نفع بخش کاروبار ہے جس میں گھاٹے کا سوال ہی نہیں اسی لئے بہت سے ہٹے کٹے افراد بھی بڑی تیزی سے اس پیشے سے منسلک ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس لعنت سے محفوظ رکھے۔ آمين