قیامت کی نشانی : عورتیں کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : صنفان من أهل النار لم أرهما بعد ، نساء كاسيات عاريات مائلات مميلات على رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة لا يرين الجنة ولا يجدن ريحها ورجال معهم أسواط كأذناب البقر يضربون بها الناس
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دو قسم کے لوگ آگ میں جانے والے ہیں جو ابھی تک مجھے نہیں دکھائے گئے۔ (ایک تو) ایسی عورتیں ہیں جو کپڑے پہننے کے باوجود ننگی رہتی ہیں، یہ مائل ہونے والی اور (لوگوں کو) مائل کرنے والی ہیں، ان کے سروں پر (جوڑے) بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح حرکت کرتے ہوں گے۔ یہ جنت کو دیکھیں گی نہ اس کی خوشبو پائیں گی اور (دوسرے) کچھ آدمی ہیں جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کوڑے (لاٹھیاں) ہیں جن کے ساتھ وہ لوگوں کی پٹائی کرتے ہیں۔“
مسلم (153/6) احمد (469/2 – 581) سنن کبری (234/2) شرح السنة (153/6) موطا (913/2)
فوائد :
(1) عورتوں میں عریان لباس کا ظہور قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) عرصہ دراز سے اس نشانی کا ظہور ہو چکا ہے۔
(3) عورت کا لفظی معنی ”پردہ“ ہے اور اسے حکم الہی کے مطابق ہر وقت غیر محرم سے پردہ کرنا چاہیے اور بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے کیونکہ اس کی اصل ذمہ داری گھر اور بچوں کی دیکھ بھال پر موقوف ہے۔
(4) موجودہ دور میں پردہ پوشی تو کجا عورتیں جسم فروشی سے بھی گریز نہیں کرتیں بلکہ خود حکومتیں ان کی سرپرستی کرتی ہیں اور انہیں جسم فروشی کے حفاظتی اڈے بھی مہیا کر رکھے ہیں اور یہ سب کچھ اسلامی ملکوں میں سرعام ہے۔
(5) متقی عورتوں کو چاہیے کہ خوف الہی دل میں جاگزیں کریں اور اسلامی احکامات پر سختی سے عمل پیرا ہو جائیں مبادا کہ وہ مذکورہ فہرست میں شامل ہو کر شقاوت کی مستحق بن جائیں۔