قیامت کی نشانی : علم کا خاتمہ اور جہالت میں اضافہ
عن أنس بن مالك رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم ويثبت الجهل ويكثر الهرج
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”علم کا اٹھ جانا، جہالت اور قتل و غارت گری کا بڑھ جانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔“
[بخاری: کتاب العلم: باب كيف يقبض العلم (100) مسلم (2672) احمد (387/11 – 503 – 550 – 564) ترمذی (2200) ابن ماجہ (4099 – 4100)]
عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد ولكن يقبض العلم بقبض العلماء حتى لم يبق عالم ، اتخذ الناس رؤوسا جهالا ، فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا وأضلوا
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ (زبردستی) لوگوں (کے سینوں) سے علم نہیں کھینچیں گے بلکہ علماء کے کھینچنے (موت) کے ساتھ علم بھی کھینچ لیں گے یہاں تک کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا۔ پھر لوگ جاہلوں کو سردار (امیر) بنا لیں گے، ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بلا علم فتویٰ دیں گے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔“
[بخاری: ایضا (100) مسلم (2673) احمد (216/2 – 252) ابن ماجہ (40) حمیدی (581) عبد الرزاق (256/11)]
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم کے اٹھ جانے کا تذکرہ فرمایا، تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! علم کیسے ختم ہو جائے گا حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنی اولاد کو پڑھاتے ہیں (وہ اپنی اولاد کو پڑھاتے رہیں گے تو اس طرح یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ابن لبید! تیری ماں تجھے رحم کرے، میں تو تجھے مدینے کا سمجھدار آدمی سمجھتا تھا! کیا یہود و نصاریٰ تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ مگر یہ لوگ ان سے کوئی نفع حاصل نہیں کرتے۔“
[احمد (219/4 – 298) ابن ماجہ (4097) حاکم (179/6) مشکل الآثار (278/1) وسنده صحیح]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”علم منتا چلا جائے گا جس طرح کپڑے کے نشانات مٹتے چلے جاتے ہیں حتی کہ لوگ نماز، روزہ، زکوۃ اور قربانی کا تصور بھی بھول جائیں گے۔ قرآن مجید اٹھا لیا جائے گا اور کچھ بوڑھے مرد و زن باقی رہ جائیں گے جو کہیں گے: ہم نے تو اپنے آباؤ اجداد سے صرف ایک کلمہ لا إله إلا الله سنا ہے لہذا ہم بھی وہی کلمہ دہراتے ہیں۔“
[فتح الباری (16/13) وقال الحافظ، أخرجه ابن ماجہ بسند قوی، ابن ماجہ (4049) حاکم (473/4) وصححه ووافقه الذهبی، صحیح الجامع الصغیر (339/6)]
ایک روایت میں ہے کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب زمین پر الله الله پکارنے والا بھی کوئی نہ بچے گا۔
[مسلم: کتاب الإيمان: باب ذهاب الإيمان آخر الزمان (148) احمد (134/3 – 204)]
فوائد
(1) رفع علم اور فشو جہل (Ignorance) قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) یہ نشانی ایک طویل عرصے سے ظاہر ہو چکی ہے جیسا کہ شارح بخاری ابن بطال فرماتے ہیں کہ علم کی تنقیص اور جہالت کی تکثیر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔
[فتح الباری (16/13)]
(3) علم آہستہ آہستہ (Step By Step) اٹھتا جائے گا حتی کہ قیامت کے وقت لوگ نماز، روزے کا تصور تو کیا لفظ الله کہنا بھی بھول جائیں گے۔
(4) علم سے مراد علم دین ہے۔ علم طبیعات (Natural science) یا اس کی انواع و اقسام نہیں۔
(5) اللہ تعالیٰ لوگوں کے سینوں سے زبردستی علم نہیں نکالے گا بلکہ علماء کی موت کے ساتھ ان کا علم بھی قبض فرمالیں گے۔
(6) آئمہ مجتہدین بتدریج کم ہوتے جائیں گے حتی کہ قیامت کا نقارہ بج جائے گا۔
(7) لوگ علماء کی بجائے جہلاء کو اپنا سردار، لیڈر، ناظم، امیر، منتظم، وزیر و صدر (President, Administrator, Superintendent, Manager) وغیرہ بنا لیں گے۔
(8) علم کے اٹھ جانے میں عمل بدرجہ اول شامل ہے کیونکہ یہود و نصاریٰ کی کتابیں اور علم موجود ہے مگر عمل مفقود ہے۔