قیامت کی نشانی : طاعون کی وبا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : طاعون کی وبا

عن عوف بن مالك رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : أمسكوا مما تكون قبل الساعة موتان يكون فى الناس كفعام الغنم
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے چھ چیزیں یاد رکھو۔ تم میں موت پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون (بیماری) پھیلتا ہے (اور وہ اچانک مرنے لگتی ہیں)۔“
بخاری : کتاب الجزية : باب ما يحذر من القدر (3176) احمد (34/6) ابو داؤد (5000) ابن ماجہ (4091) حاکم (466/4) شرح السنة (430/7)
حضرت سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے پاس کبھی آسمان سے کھانا آیا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ کہا: کیسے؟ فرمایا: چھوٹے برتن میں۔ کہا: کیا اس میں سے کچھ باقی بچا؟ فرمایا: ہاں۔ کہا: وہ کہاں ہے؟ فرمایا: اسے دوبارہ اٹھا لیا گیا اور میری طرف وحی نازل ہوئی کہ میں تمہارے درمیان ہمیشہ نہیں رہوں گا بلکہ فوت کر لیا جاؤں گا اور میرے بعد تم (صحابہ) بھی کچھ دیر زندہ رہو گے۔ تم (مسلمانوں کی) جماعتیں دیکھو گے جو آپس میں قتل و غارت کریں گی اور قیامت سے پہلے موت پھیلے گی جو بڑی شدت سے (ہر طرف پھیل جائے گی) اس کے بعد زلزلوں والے سال ہوں گے۔
احمد (145/4)
فوائد :
(1) قیامت سے پہلے موت کی وبا پھیلے گی۔
(2) حافظ ابن حجر، ابن کثیر اور دوسرے شارحین کے نزدیک یہ وبا شام میں مقام عمواس (فلسطین کے شہر) میں ظاہر ہوئی تھی جو ملک شام تک پھیل گئی اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بہت سے صحابہ کرام بھی اس بیماری سے فوت ہوئے جن میں ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، امین الامت بھی شامل تھے۔
(تفصیل کے لیے دیکھئے : البدایة والنہایة، فتح الباری)
(3) آسمان سے کھانے کا نزول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک معجزہ ہے۔
(4) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موت کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی اور آپ وفات پا چکے ہیں لہذا آپ کے بارے میں حیات کا عقیدہ رکھنے والے غلطی پر ہیں۔
(5) دنیا میں زلزلوں کا ظہور بھی قیامت کی ایک نشانی ہے۔