قیامت کی نشانی : صورتیں مسخ ہوں گی اور لوگ زمین میں دھنسائے جائیں گے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : صورتیں مسخ ہوں گی اور لوگ زمین میں دھنسائے جائیں گے

عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يكون فى أمتي حسف ومسخ وقدف
”حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں شکلوں کا بگڑنا زمین میں دھنسنا اور پتھروں کی بارش ضرور ہوگی۔“
أحمد (218/2) ابن ماجه : کتاب الفتن : ”باب الخسوف“ (4060) حاكم (492/4)
عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يكون فى آخر هذه الأمة حسف ومسخ وقدف قالت : قلت يا رسول الله : أنهلك وفينا الصالحون ؟ قال : نعم إذا ظهر الخبث
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کے آخر میں شکلوں کا بگڑنا زمین میں دھنسنا اور پتھروں کی بارش ہوگی میں نے کہا یا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی ہوں گے۔ فرمایا ہاں جب خباثت پھیل جائے گی۔“
ترمذی : كتاب الفتن : ”باب ماجاء في الخسف“ (2185) صحيح الجامع الصغير (358/6)
حضرت صحار عبدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ کچھ قبائل کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا کہا جائے گا فلاں دھنسنے والے لوگوں میں سے کوئی باقی بچا ہے۔
احمد (633/3) (43/5) فتح الباري (412/8) وصححه الميزان (3403) ابو يعلى (6834) طبرانی كبير (78) مجمع الزوائد 18/8
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگ بیت اللہ پر چڑھائی کرنے سے باز نہیں آئیں گے حتی کہ اسی غرض سے ایک لشکر آئے گا اور جب وہ بیدا مقام پر پہنچے گا تو بلا امتیاز ان کے اگلے پچھلے اور درمیانے سب دھنسا دیئے جائیں گے میں نے کہا
یا رسول اللہ ان میں جو کوئی اس لشکر یا چڑھائی کو ناپسند کرنے والا ہوگا فرمایا اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائیں گے۔“
احمد (379/6) (380) ترمذی (2184) ابن ماجه (4113) ابن ابی شیبہ (609/8)
ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواب سے بیدار ہوئے تو یہ حدیث بیان کی جس میں دو لشکروں کا دھنسنا مذکور ہے۔
مسلم : كتاب الفتن : ”باب الخسف بالجيش“ (2882) ابو داؤد (4289) احمد (357/6) حاكم (475/4) ابو يعلى (439/12) السلسلة الصحيحة (577/4)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں مسخ شکلوں کا بگڑنا ہوگا اور یہ تقدیر کے منکر اور زندیق لوگوں میں ہوگا۔
احمد (145/2) (183) ابوداؤد (4613) ترمذی (2152) ابن ماجه (4109) طبرانی كبير (5810) بزار (2182) مجمع الزوائد (413/7) السلسلة الصحيحة (392/4)
حضرت بقيرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم سنو کہ قریب کہیں کوئی لشکر زمین میں دھنسا دیا گیا ہے تو قیامت قریب آئی ہے۔
احمد (378/6)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ شراب و کباب اور کھیل تماشے میں رات گزاریں گے اور صبح کو بندر اور خنزیر بن چکے ہوں گے کیونکہ انہوں نے محرمات کا پردہ چاک کیا گانے والی عورتوں شراب سود اور ریشمی لباس کو حلال کر لیا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھا کر یہ پیش گوئی فرمائی۔
احمد (325/5) الترغیب (101/3)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت میں خسف و مسخ ضرور ہو گا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ یہ کب ہوگا فرمایا جب گانے باجے اور فاحشہ عورتیں عام ہو جائیں گی اور شراب کا دور دورہ ہوگا۔
ترمذی : کتاب الفتن : باب ماجاء فى علامة حلول المسخ والحسف (2212) صحيح الجامع الصغير (103/4)
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے کچھ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے پئیں گے اور ان کے لئے گاجے باجے کا انتظام کیا جائے گا ان میں سے کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ زمین میں دھنسا دیں گے اور کچھ کو بندر اور خنزیر بنا دیں گے۔
ابن ماجه : كتاب الفتن : ”باب العقوبات“ (4020) صحيح الجامع (105/5) ابو داؤد (3685)

فوائد :

(1) شکلوں کا بگڑنا پتھروں کی بارش ہونا اور لوگوں کا زمین میں دھنسا دیا جانا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) اس سزا کے مستحق بدکردار شرابی کبابی اور اللہ کے احکامات کے باغی لوگ ہوں گے جو حرام چیزوں کو حلال بنا لیں گے
(3) جب بدکردار لوگوں کو سزا دی جاتی ہے تو نیک لوگ بھی اس سزا میں گرفتار کر لئے جاتے ہیں گو روز قیامت ہر ایک سے اس کی نیت اور اعمال کے مطابق پوچھا جائے گا۔
(4) زمین میں دھنسائے جانے کی کئی مثالیں پیش ہو چکی ہیں۔
تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری (84/13) التذكرة (ص 654) الاشاعة (49-52)
(5) وادی کاغان میں پہاڑوں کی سلائیڈنگ سے مرنے والے سینکڑوں افراد اور تباہ ہونے والا علاقہ اس کی زندہ تصویر ہے جو حال ہی میں اللہ تعالیٰ نے اہل پاکستان کو دکھا دی ہے اللہ ہمیں اپنے دنیاوی و آخروی عذاب سے محفوظ فرما۔ آمين
(6) لوگوں کی شکلوں کا مسخ بندر اور خنزیر وغیرہ کر دیا جانا حقیقی ہے مجازی یا معنوی نہیں یعنی فی الحقیقت بندر اور خنزیر بنا دیا جائے گا اور یہ سزا قدرت الہی سے بعید نہیں۔ ان الله على كل شئ قدير
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کے نزدیک مسخ حقیقی اور معنوی دونوں پر مشترک ہے البتہ مطلق معنوی مسخ کی انہوں نے تردید کی ہے۔
دیکھئے تفسیر ابن كثير (150/1-153)
(7) حال یا ماضی قریب سے مسخ کی کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی البتہ ماضی بعید سے قرآن مجید کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ جب بنی اسرائیل نے حدود اللہ میں حد درجہ تجاوز اور بغاوت سے کام لیا اور احکامات خداوندی کو پس پشت ڈال دیا تو اللہ تعالٰی نے بطور سزا ان کی شکلیں مسخ کر کے انہیں بندر بنا دیا ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ
”اور یقینا تمہیں ان لوگوں کا علم بھی ہے جو تم میں سے ہفتہ کے بارے میں حد سے بڑھ گئے اور ہم نے بھی کہہ دیا کہ تم ذلیل بندر بن جاؤ۔“
البقرة : 65
بندروں کی نسل مذکورہ مسخ ہونے والے لوگوں سے پہلے کی چلی آرہی ہے جیسا کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے یا عذاب دینے کا ارادہ کر لیں تو پھر ان کی نسل نہیں بڑھتی اور یقینا یہ بندر اور خنزیر (مسخ ہونے والے بنی اسرائیلی گروہ) سے پہلے کے چلے آرہے ہیں۔
مسلم : كتاب القدر : باب بيان ان الاجال والارزاق وغيرها لاتزيد ولا تنقض عما سبق به القدر (2663) احمد (395/1-421) ابو يعلى (5313)
(8) قیامت سے پہلے گاجوں باجوں طبلوں اور رقص و سرور کے دلدادوں پر یہ عذاب الہی لازما نازل ہو گا کہ ان کی شکلیں بندر و خنزیر وغیرہ میں بدل جائیں گی آسمان سے پتھروں کی بارش ہوگی اور انہیں زمین میں دھنسایا جائے گا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے بدبختوں کی فہرست میں شمولیت سے بچائے۔ آمين