قیامت کی نشانی : شراب حلال سمجھی جائے گی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : شراب حلال سمجھی جائے گی

وعن أبى عامر أو أبى مالك رضي الله عنهما عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں کچھ ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشمی لباس، شراب اور گانے بجانے کو حلال بنائیں گے۔“
[بخاری: کتاب الاشربة: باب ما جاء فيمن يستحل الخمر ويسميه بغير اسمه (5590)]
عن أنس بن مالك رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم ويكثر الجهل ويشرب الخمر
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت بڑھ جائے گی اور شراب پی جائے گی۔“
[بخاری: کتاب النکاح: باب يقل الرجال ويكثر النساء (5231) مسلم (2671) احمد (222/3 – 225) عبد الرزاق (381/11) ابن ابی شیبہ (664/8)]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ شراب کو حلال بنا لیں گے اور اس کا نام بدل لیں گے اور جب تک یہ علامت ظاہر نہ ہو جائے قیامت قائم نہ ہوگی۔“
[احمد (318/5) ابن ماجہ (33/14) صحیح الجامع الصغیر (13/5) فتح الباری (10ع) وحاکم]
فوائد
(1) شراب کا جواز و اباحت (Legitimacy) قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) ایک عرصے سے اس نشانی کا وقوع عمل میں آ چکا ہے۔
(3) شراب کا جواز مہیا کرنے والے بدترین لوگ ہیں خواہ وہ علماء ہی کیوں نہ ہوں۔
(4) شراب ہر وہ مشروب ہے جو نشہ آور ہو۔
(5) ہر وہ چیز جو کثیر مقدار میں نشہ پیدا کرے اس کی قلیل مقدار بھی حرام (Forbidden) ہے۔
(6) شراب نوشی کبیرہ گناہ ہے جس سے توبہ کرنا ضروری ہے۔
(7) بہت سے لوگ شراب نوشی کے جواز کے لیے اس کا نام بدل لیں گے جس طرح موجودہ دور میں شراب کی ایک قسم کو الکحل (Alcohol) سے موسوم کیا جاتا ہے۔
(8) شراب نوشی کرنے والے لامحالہ دوسرے کبائر کے بھی مرتکب ہوں گے۔
(9) ملک پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہر بڑے ہوٹل میں شراب کا اہتمام موجود ہے بلکہ سرکار نے انہیں اجازت نامے (License) عطا کر رکھے ہیں۔ مزید برآں ایسی فیکٹریاں بھی مخفی نہیں جہاں دن رات شراب کشید ہوتی ہے۔
(10) ہر مخلص مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے حضور توبہ و استغفار کر کے اس گناہ کبیرہ سے محفوظ رہنے کی توفیق مانگے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک سے اس لعنت کا خاتمہ کرے۔