قیامت کی نشانی : سیاہ خضاب استعمال کیا جائے گا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : سیاہ خضاب استعمال کیا جائے گا

عن ابن عباس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يكون قوم آخر الزمان يخضبون بهذا السواد كحواصل الحمام لا يريحون رائحة الجنة
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانے میں کچھ لوگ سیاہ خضاب (بالوں کے لیے) استعمال کریں گے (اس کی سیاہی اس طرح ہو گی) جس طرح (کالے) کبوتر کا سینہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکیں گے۔“
[احمد (339/1) (156/4) ابو داؤد (4212) نسائی (5090) فتح الباری لابن حجر (499/6) وقال: اسناده قوی …… فحكمه الرفع القول المسدد (ص 38) وصححه الألباني في غاية المرام (84)]
فوائد
(1) سیاہ خضاب استعمال کرنا ممنوع ہے۔
(2) سیاہ خضاب کا جواز در حقیقت قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(3) سیاہ خضاب استعمال کرنے والا جنت میں تو در کنار جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا۔
(4) قیامت کی یہ نشانی روز روشن کی طرح پوری ہو چکی ہے۔
(5) سفید بالوں کو مہندی وغیرہ سے رنگنا جائز ہے لیکن صرف سیاہ خضاب کا استعمال منع ہے۔ البتہ اگر سیاہی کو مہندی وغیرہ میں مکس کر کے استعمال کر لیا جائے تو یہ جائز ہے۔

سیاہ خضاب کی ممانعت کی دلیل

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے روز (ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد) ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا۔ ان کا سر اور ڈاڑھی ثغامہ (سفید پھولوں والے پودے) کی طرح سفید تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: ”اس سفیدی کو تبدیل کرو مگر سیاہی سے اجتناب کرنا۔“
[مسلم: کتاب اللباس والزینۃ: باب استحباب خضاب الشیب بصفرۃ او حمرۃ وتحریمه بالسواد (79) نسائی (5091) ابو داؤد (4304) حاکم (244/3) عبد الرزاق (154/11) بیہقی (310/7) ابن ابی شیبہ (432/8)]