قیامت کی نشانی : سلام صرف معروف لوگوں کو کیا جائے گا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : سلام صرف معروف لوگوں کو کیا جائے گا

عن ابن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : بين يدي الساعة تسليم الخاصة
”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے قریب سلام صرف خاص لوگوں کو کہا جائے گا۔“
احمد (509/1 – 525) حاکم (493/4) عبد الرزاق (5137) مجمع الزوائد (635/7) البزار (3407) الأدب المفرد (1053) السلسلة الصحيحة (246/2)
عامر بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک مسجد میں گئے تو جماعت کھڑی تھی۔ پھر لوگوں نے رکوع کیا اور ہم بھی رکوع کرتے ہوئے ساتھ شامل ہو گئے اسی دوران ایک آدمی آیا اور کہنے لگا، ابو عبدالرحمن (ابن مسعود کی کنیت) آپ کو سلام (السلام علیکم)۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حالت رکوع میں ہی فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا۔ نماز کے اختتام پر کچھ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے فلاں شخص کے سلام پر یہ کیوں کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ :
إن من أشراط الساعة إذا كانت التحية على المعرفة
”قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ سلام صرف معرفت کی بنا پر کہا جائے گا۔“
احمد (483/1 – 507) حاکم (569/4) طبرانی کبیر (9490) مجمع الزوائد (67/8) مشکل الآثار (1591) السلسلة الصحيحة (684)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ آدمی صرف اسی آدمی سے سلام کرے گا جس سے وہ جان پہچان رکھتا ہوگا۔

فوائد :

➊ السلام علیکم کا محدود ہونا اور صرف معرفت رکھنے والوں کا باہمی سلام کرنا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دور سے یہ نشانی ظاہر ہو چکی ہے اور بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔
➌ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عام حکم ہے کہ :
أيها الناس أفشوا السلام
”لوگو سلام کو عام کر دو۔“
ترمذی : کتاب صفة القيامة : باب حدیث افشو السلام (2485) ابن ماجه (1334)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ :
مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ جب تو ملاقات کرے تو سلام کہہ۔
مسلم: کتاب السلام: باب من حق المسلم للمسلم رد السلام (2162)
➍ موجودہ دور میں قیامت کی مذکورہ نشانی عروج پر ہے۔ لوگ صرف اسے ہی سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ نشست و برخاست ہو بلکہ وہاں بھی ایک پہلی سلام سارے دن کے لئے کافی سمجھ لی جاتی ہے۔
➎ کچھ لوگ ہر آنے جانے والے سے سلام کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں یہ پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کا فرق کیسے کیا جائے کیونکہ غیر مسلم سے سلام کی پہل کرنا درست نہیں۔
حدیث نبوی ہے :
لا تبدؤوا اليهود والنصارى بالسلام
”یہود و نصاری سے سلام میں پہل مت کرو۔“
مسلم : کتاب السلام : باب النهي عن ابتداء اهل الكتاب بالسلام (2167)
اور اکثر مسلمانوں نے بھی اپنی شکل و صورت، وضع قطع اور لباس اس طرح کا بنا رکھا ہے کہ ان میں اور غیر مسلموں میں فرق مشکل ہی نہیں ناممکن بھی بن جاتا ہے۔
➏ مذکورہ نشانی کا ظہور برے لوگوں پر ہو گا لہذا ہمیں سلام عام کرتے ہوئے ان برے لوگوں کی فہرست میں شمولیت سے بچ جانا چاہیے کیونکہ حدیث نبوی ہے :
أفشوا السلام
”آپس میں سلام عام کر دو۔“
ترمذی : ايضا (2485)