قیامت کی نشانی : زناکاری عام ہوگی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : زناکاری عام ہوگی

عن أنس بن مالك رضى الله عنه قال لا أحدثكم حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحدثكم به أحد غيري ، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم ويكثر الجهل ويكثر الزنا ويكثر شرب الخمر ويقل الرجال ويكثر النساء
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں ایسی حدیث نہ سناؤں جو میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اور میرے علاوہ کوئی اور وہ حدیث تمہیں نہیں سنائے گا۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی سنا کہ ”قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت بڑھ جائے گی، زنا عام ہوگا، شراب بکثرت پی جائے گی، آدمی تھوڑے اور عورتیں زیادہ ہو جائیں گی۔“
[بخاری: کتاب النکاح: باب يقل الرجال ويكثر النساء (5231) مسلم (2671) احمد (222/3 – 225) عبد الرزاق (381/11)]
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : والذي نفسي بيده لا تفنى هذه الأمة حتى يقوم الرجل إلى المرأة فيفترشها فى الطريق فيكون خيارهم يومئذ من يقول : لو واريتها وراء هذا الحائط
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ امت اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک کہ (یہ حالت نہ ہو جائے کہ) آدمی عورت کے ساتھ برسر بازار زنا کرے گا اور اس وقت بہترین آدمی وہ ہوگا جو یہ بات کہے گا: کاش تم اسے دیوار کے پیچھے لے جاتے۔“
[مجمع الزوائد (331/7) وصححه]
حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو زناکاری کو حلال کر لیں گے۔“
[بخاری (5590)]
فوائد
(1) زناکاری کا عام ہونا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) موجودہ دور میں زناکاری جنگل میں آگ کی طرح تمام عالم اسلام میں پھیل کر مسلمانوں کے ایمان کو جلا کر راکھ بنا رہی ہے۔
(3) زنا ایک کبیرہ گناہ بھی ہے جس کی شریعت میں یہ حد بتائی گئی ہے کہ اگر زانی شادی شدہ نہ ہو تو اسے سو (100) کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے جلاوطن کر دیا جائے اور اگر زانی شادی شدہ ہو تو اسے رجم (پتھر مار مار کر ہلاک) کر دیا جائے۔
[تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ النور اور احادیث مبارکہ]
(4) انفرادی طور پر مسلمان مرد و زن کو زنا جیسے کبیرہ گناہ سے اپنے آپ کو محفوظ کرنا چاہیے۔ اور اجتماعی طور پر حکومت اور ارباب اقتدار کی ذمہ داری ہے کہ وہ زناکاری کے تمام راستے، اڈے اور وسائل کی بیخ کنی کریں، زنا کی حدود کا نفاذ کریں اور اسلامی تہذیب و تمدن کو فروغ دیں مگر، افسوس صد افسوس! کہ زناکاری کے انفرادی و اجتماعی روک تھام کے تمام ذرائع مفقود ہیں (الا من رحم ربي!) عوام الناس بھی اس گناہ کی دلدل میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور حکمران طبقہ بھی طوائفوں اور رقاصوں کے چرنوں میں شب بریاں کر رہا ہے۔ (الا ما شاء الله)
(5) یہ پیش گوئی کا وقوع قطعی ہے مگر ہمیں حتی الوسع کوشش و احتیاط کے ساتھ زناکاروں کی فہرست سے بہر حال خارج و بعید رہنا چاہیے۔ (آمین)

زناکاری کے سدباب کے لیے کچھ تجاویز

(1) مکمل طور پر صحیح اسلامی تہذیب و تمدن کا احیاء و نفاذ کیا جائے۔
(2) مغربی تہذیب و کلچر سے کلی طور پر بائیکاٹ کیا جائے۔
(3) حکمران طبقہ بزور قوت اسلامی اخلاقیات کا نفاذ کرے۔
(4) عوام پوری یکجہتی سے حکومت کے اس کارخیر میں معاونت کرے۔
(5) زانیوں کو سرعام شرعی سزائیں دی جائیں۔
(6) زنا کے تمام ذرائع مسدود (Finish) کیے جائیں مثلاً مخلوط مجالس پر پابندی، پردے پر سختی، بالغ افراد کی فوری دستی شادی، فحاشی کے اڈوں کا خاتمہ، جرائم پیشہ مگر تائب افراد کی شادی اور روزگار کی سہولت، عورتوں کے لیے الگ (Separated) ہسپتال اور تعلیمی و تجارتی ادارے اور مکمل اسلامی طرز زندگی۔