قیامت کی نشانی : زلزلے بکثرت آیا کریں گے
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة حتى يقبض العلم ويتقارب الزمان وتكثر الزلازل
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ علم قبض کر لیا جائے گا زمانہ قریب آجائے گا اور زلزلے کثرت سے ہوں گے۔“
بخاری : کتاب الاستسقاء : باب ماقيل في الزلازل والآيات (1036) مسلم (2672) احمد (702/2) (633/3)
عن سلمة بن نفيل رضي الله عنها عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : بين يدي الساعة موتان شديد وبصده سنوات الزلازل
”حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے موت کی سخت وبا پھیلے گی پھر زلزلوں والے سال آئیں گے۔“
(احمد (104/11) مجمع الزوائد (306/7)
حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھ کر فرمایا اے عبداللہ ! جب تو خلافت کو ارض مقدس پر اترتے دیکھ لے تو (یاد رکھ) پھر زلزلے مصائب و آلام اور بڑے بڑے امور رونما ہوں گے اور اس دن قیامت لوگوں کے اس قدر قریب ہوگی کہ اتنا میرا ہاتھ بھی تمہارے سر کے قریب نہیں۔
احمد (288/5 – 262) حاكم (471/4) صحيح الجامع الصغير (263/6) ابو داؤد : 2535
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ایک آدمی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ کی امت کتنا عرصہ نرمی (آسائش) میں گزارے گی؟
اس نے تین مرتبہ سوال کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بغرض مصروفیت) اسے کوئی جواب نہ دیا تو واپس چل دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلب فرمایا اور کہا تم نے ایسا سوال کیا ہے جو میری امت میں سے کسی نے بھی نہیں کیا ان کی نرمی اور آسائش کی مدت 100 سال ہو گی سائل نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (خاتمہ آسائش کی) کوئی نشانی اور علامت بھی ہوگی ؟ فرمایا ہاں ! زمین کا دھنسایا جانا زلزلے طاری ہونا اور شیطانوں کا لوگوں کے (تعاون کے لئے) بھیجا جانا۔
فوائد :
(1) زلزلوں کا ظہور قیامت کی ایک علامت ہے۔
(2) قیامت کی مذکورہ نشانی ایک عرصہ سے ظاہر ہوتی چلی آرہی ہے۔
(3) کچھ عرصہ قبل زلزلوں کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا تھا جو ہند اور سندھ سے لے کر امریکہ تک پھیل گیا تھا اس میں ہزاروں افراد لقمہ اجل ہوئے سینکڑوں علاقے اور بستیاں نیست و نابود ہوئیں اور لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہوا۔
احمد (307/5) حاکم (365/4) مجمع الزوائد (19/8)
(4) اسی طرح کچھ عرصہ پہلے ترکی کو بھی یکے بعد دیگرے کئی زلزلوں کا سامنا کرنا پڑا جس میں فلک بوس عمارتیں زمین دوز ہو گئیں اور ہزاروں افراد ان کے ملبے تلے کچلے گئے۔
(5) زلزلوں کے کچھ آثار تو ماضی قریب میں ہم دیکھ چکے ہیں مگر یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ جیسے جیسے قیامت قریب آتی جائے ویسے ویسے یہ سلسلہ بڑھتا جائے اور آخر کار قیامت کا آخری زلزلہ ہو جائے گا ارشاد باری تعالی ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ
”اے لوگو! اپنے رب سے ڈر جاؤ بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔“
الحج : 1
(6) زلزلہ زمین کے جھٹکے اور مخصوص حرکت کا نام ہے جبکہ کوئی چیز اذن الہی کے سوا حرکت نہیں کر سکتی خواہ درخت کا پتہ ہو یا زمین کا زلزلہ ہو اور یہ مفروضہ غلط اور محتاج دلیل ہے کہ زمین کسی بیل وغیرہ کے سینگ پر قائم ہے۔