قیامت کی نشانی : رشتہ داری توڑی جائے گی اور ہمسائیگی بری ہوگی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : رشتہ داری توڑی جائے گی اور ہمسائیگی بری ہوگی

عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى يظهر الفحش والتفحش وقطيعة الأرحام وسوء الجوار
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ بے حیائی خوب پھیل جائے گی، قطع رحمی عام ہوگی اور ہمسائیگی بری ہوگی۔“
[احمد (263/2) حاکم (559/4) عبد الرزاق (404/11) مجمع الزوائد (632/7) بزار (3410)]
وعن ابن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إن بين يدي الساعة فشو التجارة وقطع الأرحام وشهادة الزور وكتمان شهادة الحق وظهور القلم
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے تجارت عام ہو جائے گی، جھوٹی گواہی، کتمان حق اور کتابت (قلم کی کثرت) عام ہو جائے گی نیز رشتہ داری توڑی جائے گی۔“
[احمد (509/1) (333/5) الادب المفرد (1053) حاکم (493/4) مجمع الزوائد]
فوائد
(1) رشتہ داری اور صلہ رحمی کا انقطاع اور بری ہمسائیگی قیامت کی ایک نشانی ہے جس کا ظہور ایک ممکن حد تک سامنے آ چکا ہے۔
(2) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشتہ داری توڑنے والوں کے لیے یہ وعید سنائی ہے:
ولا يدخل الجنة قاطع رحم
”رشتہ داری توڑنے والا کبھی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔“
(3) بہت سے لوگ مال و دولت کی چمک دھمک سے اندھے ہو کر اپنے غریب رشتہ داروں کو بھول جاتے ہیں اور نئے رشتہ داروں کے متلاشی بن جاتے ہیں حالانکہ اسلام اس فرق امتیاز کو مٹانے کے لیے آیا ہے اور اسلام کی نظر میں غریب رشتہ دار دوسروں کی نسبت زیادہ مستحق ہیں کہ ان سے میل جول رکھا جائے اور ان کی حتی الوسع اعانت کی جائے۔
(4) موجودہ دور میں کئی ہمسائے بھی ایسے ملیں گے جو دوسروں کے دکھ سکھ کا بالکل خیال نہیں رکھتے۔ اونچی آواز سے فحش گانے سننا اور روکنے کے باوجود منع نہ ہونا اس کی ادنیٰ سی مثال ہے۔
(5) ممکن ہے قیامت کے قریب مذکورہ نشانی موجودہ حالت سے کہیں آگے بڑھ جائے۔
(6) ہمیں اپنے عمل و رویے سے مذکورہ برے لوگوں کی فہرست میں شامل ہونے سے گریز کرنا چاہیے اور اچھی عادات و صفات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔