قیامت کی نشانی : دعا اور طہارت میں زیادتی کی جائے گی
عن عبد الله بن مغفل رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : سيكون بعدي قوم من هذه الأمة يعتدون فى الدعاء والطهور
”حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب میرے بعد میری امت میں سے کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو دعا اور طہارت میں زیادتی کریں گے۔“
احمد (3/4 – 122) (73/5) ابو داؤد : كتاب الطهارة : باب الاسراف في الوضوء (96) ابن حبان (6763) ابن ماجه (3864) صحيح الجامع (684/1)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے سنا کہ ان کا بیٹا اس طرح دعا کر رہا ہے : الہی! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں، اس کی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں، اس کی رونقوں اور ترو تازگیوں کا سوال کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ اور میں تجھ سے آگ کی پناہ مانگتا ہوں، اس کی زنجیروں سے اور طوقوں سے پناہ مانگتا ہوں تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے اللہ تعالیٰ سے خیر کثیر کا سوال کیا ہے اور کثیر ضرر سے پناہ مانگی ہے جبکہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ عنقریب ایسے لوگ ہوں گے جو دعا میں زیادتی کریں گے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی :
”اپنے رب سے عاجزی اور پوشیدگی سے دعا مانگو اور یقینا وہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
الاعراف : (55)
تمہیں یہی کافی تھا کہ تم یوں کہتے : ”الہی! میں تجھ سے جنت اور ہر اس قول و عمل کا سوال کرتا ہوں جو جنت کے قریب کر دے اور میں تجھ سے جہنم اور ہر اس قول و عمل سے پناہ مانگتا ہوں جو جہنم کے قریب کرے۔“
احمد (213)
فوائد :
➊ دعا اور وضو میں زیادتی قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ ان کا بیٹا دعا میں زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہے تو اسے نا پسند کیا اور یہ حکم انہیں پڑھ کر سنایا :
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
”یقینا اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔“
الاعراف : (55)
➌ دعا میں زیادتی کی کئی صورتیں ہیں مثلاً یوں دعا کرنا : یا اللہ! مجھے بہت بڑی جنت عطا فرما جس میں بڑے بڑے اور شاندار محلات ہوں اور محلات میں فلاں فلاں قسم کے قیمتی پتھر جڑے ہوں، اس کے دروازے فلاں قسم کے ہوں، دروازوں میں نقش و نگار… حالانکہ اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے: یا اللہ! مجھے جنت عطا فرما۔
اور جب جنت مل جائے گی تو یہ ساری چیزیں خود بخود اس میں موجود ہوں گی بلکہ انسان وہاں جو خواہش کرے گا فوراً وہ چیز حاضر ہو جائے گی۔ اسی طرح ہمیشہ کی زندگی کا مطالبہ کرنا بھی دعا کے آداب کے منافی ہے بلکہ ہر ایسی چیز کا مطالبہ جو ممنوع ہو، دعا میں زیادتی کے مترادف ہے۔
➍ وضو کے اعضا کم از کم ایک مرتبہ اور زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ دھونا سنت ہے مگر تین مرتبہ سے تجاوز کرنا طہارت میں زیادتی کے زمرے میں شامل ہے جیسا کہ ایک اعرابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر وضو کا طریقہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین مرتبہ اعضا دھو کر وضو کا طریقہ سکھلایا اور فرمایا :
هكذا الوضوء فمن زاد على هذا أو نقص فقد أساء وظلم
”یہ کامل وضو ہے اور جس شخص نے اس (تین) سے زیادہ مرتبہ کیا اس نے برا کیا اور (خود اپنی جان پر) ظلم کیا۔“
ابو داؤد : كتاب الطهارة (135)
➎ دعا اور طہارت میں مبالغہ و زیادتی سے اجتناب کرتے ہوئے صرف عمل مسنون پر اکتفا کرنا چاہیے۔