قیامت کی نشانی : خوارج کا ظہور

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : خوارج کا ظہور

وعن أبى سعيد رضى الله عنه قال : بينا النبى صلى الله عليه وسلم يقسم جاء عبد الله بن ذى الحويصرة التميمي فقال : اعدل يا رسول الله : فقال : ويلك من يعدل إذا لم أعدل ، قال عمر بن الخطاب : دعني أضرب عنقه قال : دعه فإن له أصحابا يحقر أحدكم صلاته مع صلاته وصيامه مع صيامه يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ينظر فى قذذه فلا يوجد فيه شيء ، ثم ينظر فى نصله فلا يوجد فيه شيء ، ثم ينظر فى رصافه فلا يوجد فيه شيء ، ثم ينظر فى نضيه فلا يوجد فيه شيء ، قد سبق الفرث والدم آيتهم رجل إحدى يديه أو قال ثدييه مثل ثدي المرأة ، أو قال مثل البضعة تدردر ، يخرجون على حين فرقة من الناس ، قال أبو سعيد رضى الله عنه : أشهد سمعت من النبى صلى الله عليه وسلم وأشهد أن عليا قتلهم وأنا معه حين قتل الرجل على النعت الذى نعته النبى صلى الله عليه وسلم ، فنزلت فيهم ومنهم من يلمزك فى الصدقات
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مال) تقسیم فرما رہے تھے کہ عبد اللہ بن ذی الخویصرہ تمیمی آیا اور کہا: یا رسول اللہ! انصاف کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا؟“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اجازت دیجئے میں اس کی گردن ماروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس کے کچھ ایسے ساتھی ہوں گے جن کی نماز اور روزے کے سامنے تم اپنی نماز اور روزے کو حقیر سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر جانور میں سے باہر نکل جاتا ہے، اگر تیر کے پر، کان، باڑ اور لکڑی کو دیکھا جائے تو کہیں کوئی نشان (خون) نظر نہیں آتا، کیونکہ وہ (جانور کے) لید، گوبر اور خون سب سے آگے (بے داغ) نکل گیا۔ (اسی طرح وہ لوگ صاف اسلام سے نکل جائیں گے) ان کی نشانی ایک مرد ہوگا جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح یا یوں فرمایا کہ گوشت کے تھل تھل کرتے لوتھڑے کی طرح ہوگا۔ یہ لوگ مسلمانوں کے انتشار کے وقت پیدا ہوں گے۔
بخاری : کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم : باب من ترک قتال الخوارج للتألف :6933 مسلم : 1063
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حدیث میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (نہروان میں) ان سے جنگ کی تھی اور میں اس جنگ میں ان کے ساتھ تھا۔ ان لوگوں میں سے ایک بندہ قیدی بنا کر لایا گیا تو اس میں وہی چیزیں تھیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بطور نشانی) بیان فرمائی تھیں۔
راوی نے کہا۔ یہ آیت مبارکہ ان لوگوں کے بارے میں ہی نازل ہوئی تھی :
ان میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کی تقسیم صدقات میں عیب نکالتے ہیں۔
عن على رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : سيخرج قوم فى آخر الزمان أحداث الأسنان سفهاء الأحلام يقولون من خير قول البرية ، لا يجاوز إيمانهم حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية فأينما لقيتموهم فاقتلوهم فإن فى قتلهم أجرا لمن قتلهم يوم القيامة
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانہ قریب ہے جب ایسے لوگ مسلمانوں میں نکلیں گے جو نوعمر بیوقوف ہوں گے (عقل میں فتور ہوگا) ظاہری طور پر ساری خلق کے کلاموں سے جو بہتر ہے (یعنی قرآن وحدیث) اسے پڑھیں گے مگر در حقیقت ایمان کا نور ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے اس طرح خارج ہو جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جانور سے پار نکل جاتا ہے۔ تم ان لوگوں کو جہاں پاؤ بلا تامل قتل کرو کیونکہ ان کے قتل میں روز قیامت اجر ملے گا۔“
بخاری : کتاب استتابة المرتدين : باب قتل الخوارج والمرتدين بعد اقامة الحجة : 2930 مسلم : 1065
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خارجی لوگوں کو اللہ کی بدترین مخلوق سمجھتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ کافروں کے بارے میں اترنے والی آیات کو مسلمانوں پر چسپاں کیا کرتے تھے۔
بخاری : کتاب استتابة المرتدين : باب قتل الخوارج مسلم : کتاب الزکوة : باب الخوارج شر الخلق والخليقة : 1067 میں مرفوع حدیث نبوی ہے کہ خوارج بدترین مخلوق ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ایک گھنی ڈاڑھی والا آدمی کھڑا ہوا جس کی آنکھیں جنسی ہوئی تھیں، رخسار ابھرے تھے، پیشانی چوڑی تھی اور سر منڈا تھا۔ کہنے لگا: اللہ سے ڈرو اے محمد! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں گا تو اس کی اطاعت کون کرے گا؟ کیا وہ (عرش والا) مجھے امین کہے اور تم انکار کرو؟“ پھر وہ آدمی چلا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو قرآن کی تلاوت کرے گی مگر قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ مشرکین کی بجائے مسلمانوں سے قتال کریں گے اور اسلام سے اس طرح (صفائی سے) نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے ان (لوگوں) کو پالیا تو قوم عاد (بعض روایات میں محمود ہے) کی طرح انہیں قتل کروں گا۔“
ایک روایت میں ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضور مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار ڈالوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں شاید یہ نمازی ہو۔
مسلم : کتاب الزکوة : باب ذکر الخوارج وصفاتهم : 1064
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت دو گروہوں میں بٹ جائے گی پھر ان میں سے ایک جماعت (تیسری پارٹی) خروج کرے گی جسے وہ گروہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہوگا۔“
مسلم : 1065
فوائد:
جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر باہم برسر پیکار تھے اور ہزاروں آدمیوں کے مارے جانے کے باوجود ابھی تک جنگ غیر فیصلہ کن مرحلے میں بدستور جاری تھی کہ اچانک حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک جنگی ترکیب سوجھی اور انہوں نے دشمن کو مصروف جنگ رکھتے ہوئے اپنی فوج کا ایک معقول حصہ جدا کر کے اشتر نخعی کی کمان میں دشمن پر پشت سے حملہ آور ہونے کے لیے روانہ کر دیا۔ اشتر نخعی نے برق و باد کی طرح حملہ کیا، صفوں کو ریلتا، دھکیلتا اور روندتا ہوا لشکر معاویہ رضی اللہ عنہ کے قلب تک جا پہنچا حتی کہ لشکر معاویہ رضی اللہ عنہ کا علم بردار بھی مارا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ، اشتر کے کامیاب حملے کو دیکھ کر جس قدر مسرور و مطمئن تھے، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اسی قدر پریشان و حواس باختہ تھے کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو یہ ترکیب سلجھائی کہ لوگوں کو حکم دو کہ وہ فوراً نیزوں پر قرآن مجید بلند کریں اور بآواز بلند کہیں هذا كتاب الله بيني وبينكم ”یہ اللہ کی کتاب ہمارے اور تمہارے درمیان (حاکم) ہے۔“ چنانچہ اس پر عمل کیا گیا۔ جب لشکر علی رضی اللہ عنہ نے نیزوں پر قرآن بلند ہوتے دیکھا تو لڑائی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سمجھایا کہ اب کوتاہی نہ کرو، لڑائی جاری رکھو بہت جلد کامیابی تمہارے پاؤں چومنے والی ہے مگر بنو بکر، بنو ہمدان اور بنو تمیم وغیرہ کے لوگ جو بعد میں خوارج کہلائے، نے لڑنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ قرآن کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر کے ہم مومن نہیں رہ سکتے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تحکیم قرآن کا معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ مگر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مذکورہ معاہدہ تسلیم کر کے واپسی کا سفر اختیار کیا تو انہی لوگوں نے آپ کے پاس آکر مطالبہ کیا کہ معاہدہ توڑ کر لشکر معاویہ رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس بد عہدی کے لیے تیار نہ ہوئے تو یہ لوگ یہ کہتے ہوئے لشکر سے الگ ہو گئے کہ حکم (Judge) صرف خدا کی ذات ہو سکتی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کسی انسان (ابو موسیٰ اشعری) کو حکم بنا کر کفر کا ارتکاب کیا ہے (نعوذ باللہ) لہذا انہیں اپنے کفر کا اقرار کرنے کے بعد توبہ کرنی چاہیے ورنہ ہم لوگ آپ کا ساتھ نہیں دیں گے۔ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر سے الگ ہو کر حروراء میں مقیم ہو گئے اور عبد اللہ بن الکوا کو اپنا امام اور شیث بن ربعی کو اپنا سپہ سالار بنا لیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مناظرے کے ذریعے ان میں سے بہت سے لوگوں کو قائل و تائب کر لیا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور کہا ”تم لوگوں نے میری بیعت کی تھی پھر بیعت سے خارج ہونے کا سبب کیا ہے؟“ خوارج کے امیر (ابن کوا) نے جواب دیا ”آپ کے بے جا تحکم کی وجہ سے“۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں لڑائی روکنے کے حق میں نہیں تھا مگر تمہاری وجہ سے لڑائی کو روکنا پڑا اور مجبوراً پنچائیت کے فیصلے پر رضامندی ظاہر کرنا پڑی تاہم دونوں طرف سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ قرآن مجید کے مطابق فیصلہ کریں گے لہذا اگر ان کا فیصلہ خلاف قرآن ہوا تو ہم اسے ہرگز تسلیم نہیں کریں گے ہم نے در حقیقت آدمیوں کو حکم نہیں بنایا حکم تو قرآن مجید ہے، آدمی قرآن کے فیصلے کو سنا دیں گے۔ مگر خوارج اپنے نظریات پر بضد رہے اور مختلف اعتراضات کرتے رہے نیز انہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر بھی کفر کا فتویٰ عائد کر دیا اور کہا کہ یہ دونوں واجب القتل ہیں اور جو ہمارے نظریات سے متفق نہیں وہ بھی واجب القتل ہے۔ خوارج نے اپنے عقائد کو تبلیغ سے پھیلانے کی بجائے جبر و تشدد کا طریقہ اختیار کر لیا اور عام مسلمانوں سے اپنے عقائد کا اعتراف واقرار کرواتے اگر کوئی مان جاتا تو اسے اپنے ساتھیوں میں شامل کر لیتے اور نہ تو قتل کر دیتے۔ اسی طرح جب خوارج نے عبد اللہ بن خباب اور ان کے اہل و عیال وغیرہ کو قتل کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جارحانہ اقدام کیا اور مقام نہروان پر ان کا خوب استیصال کیا اس لیے اسے ”جنگ نہروان“ کہا جاتا ہے۔ خوارج جس طرح مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے اسی طرح انہوں نے اپنے غلط نظریات و عقائد کی وجہ سے اسلام میں رخنہ اندازی کی۔ کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر کہا، رجم کی سزا کو کالعدم قرار دیا، حائضہ پر نماز فرض کر دی، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے تارک کو مردہ کہا وغیرہ۔
(تفصیل کے لیے دیکھئے : البدایة والنہایة : 2907 فتح الباری : 285/12