قیامت کی نشانی : جھوٹ بکثرت بولا جائے گا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : جھوٹ بکثرت بولا جائے گا

عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى تظهر الفتن ويكثر الكذب ويتقارب الأسواق
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم ہونے سے پہلے فتنے ظاہر ہوں گے، جھوٹ بکثرت ہوگا، بازار قریب ہو جائیں گے۔“
[بخاری: کتاب الفتن: باب ظهور الفتن (7061) مسلم (107) احمد (687/2) ابو داؤد (4255) ابن ماجہ (4096)]
وعن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : سيكون فى آخر الزمان أناس من أمتي يحدثونكم ما لم تسمعوا أنتم ولا آباؤكم فإياكم وإياهم ، وفي رواية : لا يضلونكم ولا يفتنونكم
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانے میں کچھ ایسے (جھوٹے) لوگ ظاہر ہوں گے جو خود وضع کر کے تمہیں ایسی حدیثیں سنائیں گے جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے بھی نہیں سنیں لہذا ان سے محفوظ رہنا مبادا کہ تمہیں گمراہی یا فتنے میں مبتلا کر دیں۔“
[مسلم: مقدمہ: باب النهي عن الرواية عن الضعفاء (7) احمد (423/2 – 460) ابن حبان (198/15) دلائل النبوة (550/6) مشکل الآثار (397/7)]
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شیطان انسانی صورت میں کسی قوم کے پاس آ کر جھوٹی حدیث سنائے گا اور لوگوں میں انتشار واقع ہو جائے گا، ان میں سے ایک آدمی کہے گا کہ میں نے ایک شخص سے یہ حدیث سنی ہے جس کا چہرہ تو میں پہچانتا ہوں مگر اس کا نام نہیں جانتا۔
[مسلم: ایضا (17)]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سمندر میں شیطان قید ہیں جن میں سب سے طاقتور ”سلیمان“ ہے عنقریب وہ رونما ہوگا اور لوگوں پر قرآن پڑھے گا۔ (یعنی دھوکا دینے کے لیے جھوٹا قرآن بتائے گا)۔
[مسلم: ایضا (18)]
فوائد
(1) جھوٹ کا پھیل جانا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) یہ نشانی عرصہ دراز سے ظاہر ہو چکی ہے اور بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔
(3) قیامت کے قریب کچھ لوگ اس قدر جری ہو جائیں گے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہتان باندھیں گے اور جھوٹی (موضوع) احادیث لوگوں کو سنا کر گمراہ کریں گے۔
(4) کسی حدیث کو پیش کرنے سے پہلے اس کی صحت جانچ کی جائے۔ اگر قابل بیان و قابل حجت ہو تو درست ورنہ اسے ترک کر دیا جائے۔
(5) جھوٹی احادیث بیان کرنے والے کذاب لوگوں کے ساتھ شیطان بھی شرکت کریں گے اور جھوٹی احادیث بلکہ جھوٹا قرآن بھی لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔
(6) بعض اوقات کوئی صحیح حدیث بھی کسی انسان کو اجنبی معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ وہ اس کا مطالعہ سے نہیں گزرا ہوتا تو ایسی حدیث جو قابل صحت و قابل اعتماد ہو اسے عدم علم کی بنا پر رد کر دینا درست نہیں۔
(7) عام گفتگو میں جھوٹ بولنا ایک قابل مواخذہ گناہ اور نفاق کی علامت ہے جبکہ علم حدیث میں جھوٹ بولنے والے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
”جس شخص نے قصد و ارادے کے ساتھ مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے۔“
[مسلم: ایضا (4)]