قیامت کی نشانی : جھوٹی گواہی دی جائے گی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : جھوٹی گواہی دی جائے گی

عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إن بين يدي الساعة … شهادة الزور وكتمان شهادة الحق
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے جھوٹی گواہی دی جائے گی اور سچی گواہی چھپائی جائے گی۔“
[احمد (509/1) حاکم (493/4) مجمع الزوائد (635/7) الادب المفرد (1053) السلسلة الصحيحة (246/2)]
فوائد :
(1) جھوٹی گواہی دینا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) موجودہ دور میں یہ نشانی بدرجہ اتم پوری ہو چکی ہے۔
(3) جھوٹی گواہی گناہ کبیرہ ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے:
”ألا أنبئكم بأكبر الكبائر ثلاثا؟“ قالوا: بلى يا رسول الله، قال: ”الإشراك بالله وعقوق الوالدين وقول الزور“
”کیا میں تمہیں بڑے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ تین مرتبہ فرمایا۔ لوگوں نے کہا: ضرور! یا رسول اللہ۔ فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی (کبیرہ گناہ ہیں)۔“
[بخاری: کتاب الشهادات: باب ما قيل في شهادة الزور (3654) مسلم (87)]
(4) ہماری عدالتوں کا سارا نظام جھوٹی گواہیوں (False Evidences) پر منحصر ہے۔ کرائے کے گواہ بکثرت اور بآسانی میسر ہیں جن کے ذریعے ہر طرح کے ناجائز مقدمات کو جائز فیصلوں میں تبدیل کر لیا جاتا ہے اور بلاشبہ یہ قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(5) ہمیں ہر ممکن کوشش سے مذکورہ پیش گوئی کے مصداق بننے سے اجتناب کرنا چاہیے۔