قیامت کی نشانی : جنگ صفین

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : جنگ صفین

وعن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة حتى تقتتل فتان عظيمتان يكون بينهما مقتلة عظيمة ودعوهما واحدة
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتیں آپس میں بہت بڑی جنگ لڑیں گی جبکہ دونوں جماعتوں کا دعویٰ ایک ہوگا۔“
بخاری : کتاب استتابة المرتدين : باب قول النبي لا تقوم الساعة حتى : 6935 مسلم : 2888 احمد : 412/2 702 دلائل النبوة : 418/6
ایک روایت میں ہے کہ ان دونوں جماعتوں میں سے ایک (تیسری) پارٹی (دین سے) خروج کرے گی جسے وہ جماعت مقتل کرے گی جو حق کے زیادہ قریب ہوگی۔
(مسلم: کتاب الزکوة : باب ذکر الخوارج وصفاتهم : 1065
عن أبى بكرة رضى الله عنه قال بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم يخطب إذ جاء الحسن بن على فصعد إلى المنبر فضمه النبى ومسح على رأسه وقال : إن ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح على يديه بين فئتين عظيمتين من المسلمين
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے اور منبر پر چڑھنا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنی طرف کھینچ کر سر پر پیار دیا اور فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح فرمائے گا۔“
بخاری: کتاب الفتن : باب قول النبي للحسن بن علی ان ابنی هذا سید ولعل الله ان يصلح به بين فئتين من المسلمين : 7109 احمد : 52/5 ابو داؤد : 13/1
فوائد :
محترم قارئین اگذشتہ صفحات میں جنگ جمل کے مختصر شمارہ جات سے کسی حد تک اس جنگ کی حقیقت آپ پر آشکارا ہو چکی ہوگی کہ سبائیوں (عبد اللہ بن سبا یہودی کے سازشی پیروکار) کی ریشہ دوانیوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مجبوریوں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وغیرہ کی عدم فہمیوں کی بنا پر مسلمانوں کو جنگ اور لاشوں کی صورت میں ایک عظیم نقصان سے دوچار ہونا پڑا مگر جنگ صفین کا تذکرہ پچھلے صدمات پر نمک چھڑک کر پرانے زخموں کو ہرا کرنے کا باعث بنا۔ قانون قدرت اٹل تھا کہ مسلمان باہمی لڑائیوں کے عذاب سے دوچار ہوں گے اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ دعا قبول نہیں فرمائی کہ یہ مسلمان آپس میں نہ لڑیں (حوالہ گذر چکا ہے)۔ جنگ جمل کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور بہت سے سمجھدار لوگ ایک اور نئی جنگ مول لینا نہیں چاہتے تھے مگر سبائیوں کی مضبوط ریشہ دوانیوں اور اشتر نخعی اور ابو امور سلمی جیسے متعصب لوگوں کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی صلح کی تمام کوششیں رائیگاں ثابت ہوئیں اور صفین کے مقام پر دونوں لشکروں کی خونریز جنگ ہوئی جس میں دونوں اطراف سے بلا مبالغہ ہزاروں افراد جن میں بیشتر صحابہ تھے، مارے گئے اور یوں منافقوں کی سازشیں اور تقدیر الہی کارگر ہو رہی۔ جنگ کے آغاز اور صلح کی کوششوں سے پہلے ایک اور قضیہ جسے المیہ کہیں تو مبالغہ نہ ہوگا، یہ سامنے آیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں شام والے معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ تسلیم کر چکے تھے۔ یک شد نہ شد و رشد کے تحت مسلم قتل عثمان کے ساتھ استحقاق خلافت کا مسئلہ بھی پوری تیاری سے میدان میں قدم جما چکا تھا۔ اسی دور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک سازش کا شکار ہو کر شہید ہوئے تو لوگوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہما کو ان کا جانشین (خلیفہ) مقرر کر لیا مگر حضرت حسن رضی اللہ عنہما وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی پر پورے اترتے ہوئے کمال دانشمندی سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے خلافت سے دست بردار ہو گئے اور یوں امت مسلمہ ایک بار پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے جھنڈے تلے جمع ہو کر اپنے اصلی دشمنوں کی پہچان و تعاقب میں سرگرداں ہو گئی۔