قیامت کی نشانی : جنگ جمل کا وقوع پزیر ہونا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : جنگ جمل

عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لنسائه : أيتكن صاحبة الجمل الأدبب تخرج حتى تنبحها كلاب الحوأب يقتتل عن يمينها وعن شمالها قتلى كثيرة
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے فرمایا : تم میں سے کون ہو گی جو گھنے بالوں والے اونٹ پر سوار ہو (کر نکلے) گی یہاں تک کہ حوأب (بصرہ کا علاقہ) کے کتے اس پر بھونکیں گے۔ اس کے دائیں بائیں لاشوں کے ڈھیر لگے ہوں گے۔
(احمد : 52/6 ، ابن حبان : 1831 ، ابو یعلی : 4868 ، حاکم : 120/3 ، البزار : 321/5 ، البدایة : 212/6 ، السلسلة الصحیحة : 474)
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنو عامر کے محلے سے گذریں تو کتوں نے بھونکنا شروع کر دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : یہ کونسی جگہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : مقام حوأب۔ فرمانے لگی کہ مجھے واپس چلے جانا چاہیے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ آپ واپس نہ جائیے بلکہ آگے بڑھیے تاکہ لوگ آپ کو دیکھیں اور باہم صلح کر لیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ نہیں مجھے واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا تھا (اے ازواج) کیا کیفیت ہو گی کہ جب تم میں سے کسی ایک پر حوأب کے کتے بھونکیں گے؟
(حاکم : 120/3 ، احمد : 52/6 ، مجمع الزوائد : 234/7 ، فتح الباری : 55/13)
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : علی ! تیرے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان اختلاف رونما ہوگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ساتھ ؟ فرمایا: ہاں، کہا: پھر تو میں دنیا کا بد بخت انسان ہو جاؤں گا۔ فرمایا نہیں۔ جب ایسا مسئلہ واقع ہو تو عائشہ کو مقام امن کی طرف بھیج دینا۔
(احمد : 393/9 ، فتح الباری : 55/13)

فوائد :

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے (جن میں قاتلین اور فسادی بھاری تعداد میں شامل تھے) اور کہا: آپ ہاتھ بڑھائیں ہم خلافت کے لئے آپ کی بیعت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : پہلے لوگوں سے مشاورت کی جائے۔ بعض کہنے لگے کہ اب اگر لوگ اس حال میں اپنے شہروں کو واپس چل دیئے کہ عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہیں، خلیفہ کوئی نہیں تو امت کا اختلاف اور فساد کبھی رفع نہیں ہوگا بالآخر ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ بیعت کرنے والوں میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے پھر یہ دونوں حضرات مکہ کو چل دیئے وہاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی اور مذکورہ صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ پھر یہ حضرات بصرہ چلے گئے اور وہاں کے لوگوں سے مل کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے قاتلین عثمان کا مطالبہ کر دیا جس کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ یہاں سے حالات نے نئی کروٹ بدلی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی قاتلین عثمان میں شمار کیا جانے لگا حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نہ تو قاتلین عثمان میں سے تھے اور نہ ہی ان کی حمایت میں، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قاتلین عثمان پیش کیوں نہ کئے ؟ اس سوال کا جواب آگے ذکر کیا جائیگا۔ اس دور میں فوری گفتگو کا کوئی ذریعہ نہ تھا بلکہ ایک علاقے سے دوسرے تک پیغام رسانی کے لئے کئی ہفتے بلکہ مہینے بھی درکار ہوتے تھے علاوہ ازیں بات کا بتنگڑ بن جانا بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا تھا اس پر مزید گرہ یہ لگی کہ قتل عثمان اور فتنہ و فساد کے اصل محرکین یعنی عبد اللہ بن سبا یہودی نژاد اور منافق مسلمانوں کی تیار کردہ سازشی جماعت اور کچھ حقائق سے بے خبر مخلص مسلمان بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قصوروار ثابت کرنے کی ذمہ داری ادا کر رہے تھے اور یہ اس کثرت سے بلاد اسلامیہ میں پھیلے ہوئے تھے کہ انہوں نے کوفہ، بصرہ اور ملک شام تک ہر جگہ جلتی پر تیل ڈالا ، ادھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے لشکر کا شک یقین میں بدلتا گیا ادھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف لشکر کا سامان کرنے لگے۔
اس کے بر عکس حضرت علی رضی اللہ عنہ عجیب مخمصے کا شکار تھے انہیں نامساعد حالات میں خلیفہ بنایا گیا ، خلافت ابھی غیر مستحکم تھی، لوگ حقائق سے بے بہرہ تھے، قاتلین عثمان کی تعیین و تحدید غیر ممکن تھی جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجہ بھی کسی قاتل کی نشاندہی نہ کر سکی تھیں، مکہ ، عراق اور شام والے مدد دیے بغیر قاتلین عثمان کے حصول پر مصر تھے جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر والے علی رضی اللہ عنہ کے پاس ابھی تک فیصلہ بھی نہیں لے کر گئے تھے ، فسادیوں کا ایک بڑا ٹولہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ذاتی رنجش بھی رکھتا تھا جنہیں سبائی خوب استعمال کر رہے تھے جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حلفاً کہہ رہے تھے کہ نہ میں نے عثمان کو قتل کیا ہے اور نہ ان کے قتل پر خوش ہوں اور نہ ہی قاتلین کی حمایت میں ہوں مگر فوری پیغام رسانی کے مفقود ہونے کی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، طلحہ و زبیر اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے افہام و تفہیم ناممکن تھی علاوہ ازیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب ایک آدمی کے قتل عثمان میں واضح طور پر شامل ہونے کی وجہ سے قصاص لینا چاہا تو اس پر تمام مفسدین اور سبائیوں نے ہلہ گلہ اور فساد برپا کر دیا جس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو واضح طور پر احساس ہو گیا کہ جب تک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کا لشکر اور معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ ان کی حمایت و اطاعت نہیں کرتے تب تک ان فسادیوں پر قابو پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے ۔ خیر یہ لاوا پکتا رہا جس کا بالآخر جنگ جمل اور پھر صفین کی صورت میں پھٹنا مقدر تھا۔ ادھر سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مع لشکر روانہ ہوئیں جبکہ مدینے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چار و ناچار نکلنا پڑا جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو اصل حقائق کو سمجھنے کے لئے دونوں طرف سے تبادلہ خیالات ہوئے اور حقیقت حال واضح ہو گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مجبور محض ہونے کے ساتھ اصل مجرموں کی نقاب کشائی اور کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں جس کی پہلی قسط اس طرح ادا کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تمام بلوائیوں کو اپنے لشکر سے علیحدہ ہو جانے کا عملی حکم صادر فرما دیا۔
یہ کوششیں بار آور ہوا چاہتی تھیں کہ عین صلح کی آخری رات عبد اللہ بن سبا یہودی لعین کے حکم پر بلوائیوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لشکر پر شب خون مارا جس سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے لشکر والوں نے یہ سمجھا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں صلح کا دھوکہ دے کر ہم پر حملہ کیا ہے اور ان کے گذشتہ خیالات جو صلح کی کوششوں سے صحیح جہت پر استوار ہو چکے تھے ایک بار پھر اس یقین کی طرف بدل گئے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قضیہ عثمان میں گہرا ہاتھ ہے جبکہ دوسری طرف بلوائیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں یہ مشہور کر دیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لشکر نے دھوکے سے شب خون مارا ہے جس کا ہم دفاع کر رہے ہیں اور یونہی سارے لشکر نے بہادری کے جوہر دکھانے شروع کر دیئے۔ یہ حقیقت بھی طشت از بام ہو جاتی ہے کہ سبائیوں نے ابن سبا لعین کے ایماء پر اس حملے کا اقدام اس غرض سے کیا تھا کہ مسلمان باہمی طور پر قتل و خون میں نہا جائیں اور یہی ان کا بنیادی مقصد تھا۔ نیز وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ لڑائی نہ ہوئی تو صلح کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، علی رضی اللہ عنہ اور پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کے مشترکہ ہاتھ ہماری گردن دبائیں گے۔ ادھر کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اونٹ پر سوار ہو کر میدان کی طرف نکلیں تاکہ حرمت رسول کا لحاظ کر کے لوگ جنگ سے ہاتھ کھینچ لیں مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اونٹ پر نکلنے کی ترکیب امت مسلمہ کو مہنگی پڑی اور سبائیوں کو اپنے موقف کے اثبات پر تقویت ملی کہ دیکھا ہمارا کہنا درست ثابت ہوا، وہ دیکھو ! عائشہ رضی اللہ عنہا تو اپنے لشکر کی کمان کر رہی ہیں۔ اس اونٹ کی وجہ سے اسے جنگ جمل کہا گیا۔ بالآخر اس اونٹ کی کونچھیں کاٹ دی گئیں اور لشکر علی رضی اللہ عنہ نے غالب حیثیت میں جنگ کا خاتمہ کیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اماں جان آپ کا مزاج کیسا ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر ایک غلطی معاف فرمائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : خدا تمہاری بھی ہر ہر غلطی معاف فرمائے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی نہایت تعظیم و تکریم کی اور جب تمام معاملات میں ہر طرح صلح و صفائی ہوگئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے بھائی محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ معظمہ روانہ فرما دیا جہاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حج ادا کر کے مدینے تشریف لے گئیں۔ (رضي الله عنهم ورضوا عنه)